پاکستان کی گولہ باری میں2 بی ایس ایف جوان ہلاک

جموں وکشمیر میں بین الاقوامی سرحد پر پاکستان کی اندھادھند گولہ باری اور فائرنگ میں بی ایس ایف کے 2جوان ہلاک اور 7دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ حکام کو سینکڑوں دیہاتیوں کا تخلیہ کرانا پڑا۔ اسسٹنٹ سب انسپکٹر ایس این یادو اور کانسٹبل وی کے پانڈے‘ اخنور سیکٹر کے پرگوال سب سکٹر میں ہلاک ہوئے۔ 30 مواضعات اور بی ایس ایف کی10چوکیاں پاکستانی گولہ باری اور فائرنگ کی زد میں ہیں ۔ایک پولیس عہدیدار نے بتایاکہ زخمیوں (6شہریوں اور ایک بی ایس ایف جوان) کو گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال جموں منتقل کیا گیا ہے۔ پاکستانی گولے پرگوال اور کنچک سب سیکٹرس میں ہندوستانی علاقہ کے کافی اندر گرے۔ پولیس نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے بلٹ پروف گاڑیوں کا استعمال کیا کیونکہ دہشت پھیل گئی تھی۔ پاکستانی فائرنگ اور گولہ باری کل رات لگ بھگ 3:30بجے شروع ہوئی تھی۔ ہندوستانی فوج نے جواب دیا۔ فائرنگ کا تبادلہ صبح10بجے تک جاری رہا۔ صرف 5دن قبل دونوں ممالک کے ڈائرکٹر جنرلس ملٹری آپریشن( ڈی جی ایم اوز) نے 2003 کے لڑائی بندی معاہدہ پر جلد عمل آوری پر آمادگی ظاہر کی تھی تاکہ جموں وکشمیر میں بین الاقوامی سرحد اور حقیقی خط قبضہ پر‘ امن یقینی ہو۔اخنور سیکٹر میں جھڑپیں رکنے کے بعد 30سے زائد مواضعات کے دیہاتی یہ اندازہ لگانے اپنے مکانوں سے باہر نکل آئے کہ ان کے مکانوں‘ مویشیوں اور کھیتوں کو کتنا نقصان پہنچا۔ چیف منسٹر جموں وکشمیر محبوبہ مفتی نے کہاکہ بدبختی کی بات ہے کہ لڑائی بندی معاہدہ پر آمادگی کے باوجود پاکستان فائرنگ اور گولہ باری کررہا ہے۔ سرحد کے دونوں جانب لوگ مررہے ہیں۔ ڈی جی ایم اوز کی بات چیت فوری شروع ہونی چاہئے تاکہ سرحدوں پر امن قائم ہو۔ ڈپٹی چیف منسٹر کویندر گپتا نے بعض متاثرہ مواضعات کا دورہ کیا اور زخمی شہریوں سے اسپتال میں ملاقات کی۔ دکانداروں نے دوپہر میں اپنی دکانیں کھول دیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بی ایس ایف کی جوابی کارروائی سے پاکستانی علاقہ کے اندر بھاری نقصان ہوا ہے۔یواین آئی کے بموجب پاکستان نے لڑائی بندی کی پھر خلاف ورزی کی۔ اس نے کل رات بی ایس ایف چوکی کو نشانہ بنانے بلا اشتعال فائرنگ کی۔ پاکستان رینجرس نے مارٹر گولے برسائے۔ 20ہزار سے زائد دیہاتی محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے۔ انہوںنے ارنیہ‘ آر ایس پورہ‘ رام گڑھ‘ جموں‘ سامبا‘ کھٹوعہ اور ہیرا نگر سیکٹرس کے کیمپس میں پناہ لی ہے۔

جواب چھوڑیں