سسوڈیا نے بھی بھوک ہڑتال شروع کردی

تین مطالبات کو لے کر گورنر ہاؤس کے ویٹنگ روم میں چیف منسٹر اروند کجریوال اوراپنے دو وزراء کے ساتھ دھرنا دے رہے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے آج سے غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ کجریوال، سسودیا، پی ڈبلیو ڈی کے وزیر ستیندر جین اور وزیر محنت گوپال رائے پیر کو لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل سے حکومت کے تین مطالبات کو لے کر ملاقات کرنے گورنر ہاؤس گئے تھے۔ لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کرنے کے بعد مانگیں قبول کئے جانے تک چار وں گورنر ہاؤس میں ہی دھرنے پر بیٹھ گئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ٹوئیٹر پر لکھا “دہلی کے عوام کو ان کا حق دلانے کے لئے اور اس کے رکے ہوئے کام کرنے کے لئے چہارشنبہ سے میں بھی غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع کر رہا ہوں۔ ستیندر جین کابرت بھی کل سے جاری ہے. ہماری خود اعتمادی اور عوام کا اعتماد ہی ہماری طاقت ہے‘‘۔ جین نے منگل کوبرت شروع کیا تھا اور چہارشنبہ کو بھوک ہڑتال کا دوسرا دن رہا۔ کجریوال نے منگل کو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا “ہم لوگ پیر کی شام ساڑھے پانچ بجے سے ایل جی ہاؤس میں بیٹھے ہیں. ہمارے اہم مطالبات ہیں۔آئی اے ایس عہدیداروں کی ہڑتال کو فوری طور پر ختم کیا جائے، راشن سے متعلق فائل کو کلیئر کیا جائے اور محلہ کلینک، سرکاری اسکولوں میںرنگ و روغن اور دیگر رکے ہوئے کام جلدی شروع کرائے جائیں‘‘۔واضح رہے کہ گذشتہ فروری میں چیف سکریٹری انشو پرکاش کو چیف منسٹر کی رہائش گاہ پر رات میں ملاقات کے لئے بلایا گیا تھا۔ اس کے بعد پرکاش نے اپنے ساتھ مارپیٹ کا الزام لگایا۔ یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ کجریوال کا الزام ہے کہ اس واقعہ کے بعد سے دہلی حکومت میں کام کرنے والے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کے عہدیدار ’ہڑتال ‘پر ہیں جس سے عوام کے کام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ چیف منسٹر اور دیگر وزراء کے دھرنے کے درمیان عام آدمی پارٹی نے چہارشنبہ کو لیفٹیننٹ گورنر کی قیام گاہ کی طرف نکالے جانے والے مارچ کے لئے دہلی کے لوگوں سے شامل ہونے کی اپیل کی۔

جواب چھوڑیں