مویشیوں کے سرقہ کے شبہ پر جھارکھنڈ میں 2مسلمانوں کو ہلاک کردیاگیا

جھارکھنڈ کے ضلع گوڈا میں دو مسلمانوں کو دیہی افراد کے ایک برہم گروپ نے مویشیوں کے سرقہ کے شبہ پر ‘ مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا ۔ پولیس نے آج یہ بات بتائی ۔ ڈی آئی جی ( سنتل پرگنہ ) اکھلیش کمار جھا نے کل رات قبائیلی غلبہ والے موضع ڈلو میں منشی مرمو اور دیگر افراد کے مکان سے بھینسوں کا مبینہ طور پر سرقہ کیاتھا ۔ اس سرقہ کا پتہ چلتے ہی مرمو اور دیگر دیہی افراد نے مذکورہ 5 افراد کا تعاقب کیا اور انہیں قریبی موضع بنکٹی میں آج صبح کی اولین ساعتوں میں مویشیوں کے ساتھ پکڑ لیا ۔ برہم دیہی افراد نے مرتضی انصاری 30 سالہ اور سراج الدین انصاری 35 سالہ کو مارمار کر ہلاک کردیا ۔ دیگر تین افراد کسی طرح فرار ہوگئے ۔ مارپیٹ کے واقعہ کے سلسلہ میں مرمو کے بشمول 4 افراد کو گرفتار کرلیاگیاہے ۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس راجیو رنجن سنگھ نے بتایا کہ مہلوکین ‘ ضلع گوڈا میں تلجھاری علاقہ کے رہنے والے تھے ۔ اس موضع میں امن و ضبط کی برقراری کے لیے ایک مجسٹریٹ کے ساتھ کافی پولیس فورس کو متعین کردیاگیاہے ۔ صورتحال قابو میں ہے ۔ دیہی عوام نے بتایا کہ 5 افراد نے کل رات 13 بھینسوں کا سرقہ کیاتھا ۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے بتایا کہ مذکورہ دو افراد کو ہلاک کرنے کے بعد دیہی ملزمین ‘ نعشوں کو سیکلوں پر موضع ڈلو واپس لے آئے ۔ سنگھ نے بتایا کہ مسروقہ مویشیوں کو دستیاب کرلیاگیاہے ۔ دیہی عوام کی شکایت پر سرقہ کا ایک کیس درج کرلیاگیاہے ۔ فساد اور قتل کے سلسلہ میں مرمو اور دیگر افراد کے خلاف قانونی تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیا ہے اور چاروں کو گرفتار کرلیاگیاہے ۔ یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ سال گذشتہ مارچ میں جھارکھنڈ کی عدالت نے ایک مقامی بی جے پی کارکن اور دیگر 10 افراد کو جون 2017میں ایک مسلم تاجر کو مار مارکر ہلاک کرنے پر خاطی قرار دیا تھا اور سزا سنائی تھی ۔ گاؤ رکھشا کے نام پر بعض عناصر نے پھر ایک بار اپنا ناپاک سر ابھارا ہے ۔

جواب چھوڑیں