ٹرمپ گھر پہنچنے سے قبل شمالی کوریا کے ساتھ کیا گیا سمجھوتہ منسوخ کرسکتے ہیں:ایران

ایران نے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اْن کو خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھروسہ نہ کریں وہ چند گھنٹوں میں ہی جوہری عدم پھیلاؤ کا سمجھوتہ منسوخ کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ ایران نے یہ بیان اپنے تجربے کے تناظر میں دیا جو اسے گزشتہ ماہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے کی دستبرداری کی صورت میں ہوا۔ایرانی خبر رساں ادارے آئی آر این اے کے مطابق ایرانی حکومت کے ترجمان محمد باقر نوبخت حقیقی کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں معلوم کے شمالی کوریا کے سربراہ کس قسم کے شخص سے مذاکرات کررہے ہیں، جن کے بارے میں یہ بھی واضح نہیں کہ وہ گھر پہنچنے سے پہلے ہی کہیں معاہدہ ختم ہونے کا اعلان نہ کردیں۔ایرانی ترجمان نے امریکی صدر کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’یہ شخص امریکی عوام کی ترجمانی نہیں کرتا، اور آئندہ انتخابات میں عوام یقیناً ٹرمپ سے پیچھا چھڑا لیں گے‘۔واضح رہے کہ امریکہ کو 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبردار کرنے کے فیصلے کے بعد G-7 کے اجلاس میں رہنماؤں کی جانب سے بھی ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں ٹرمپ سے لاتعلقی اختیار کرلی گئی۔واضح رہے کہ مذکورہ اعلامیہ شمالی کوریا کے سربراہ سے ملاقات کے لیے ٹرمپ کے اجلاس سے جانے کے بعد سامنے آیا۔دوسری جانب ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ساتھ نئے سرے سے جوہری معاہدے کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے، جبکہ اس سے پہلے ہونے والے معاہدے کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ باراک اوبامہ جوہری معاہدے میں ایرانی بیلسٹک میزائیل کے حوالے سے سمجھوتہ کرنے میں ناکام ہوگئے تھے۔سب سے بڑھ کر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اختیارات کا حوالہ دیا جس کے تحت بین الاقوامی انسپکٹرز ایران میں مشتبہ ایرانی جوہری سائٹ کا دورہ کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ ان شرائط کا بھی تذکرہ کیا جن کے تحت جوہری پروگرام پر پابندیاں 10 سال بعد ختم ہونے لگیں گی۔

جواب چھوڑیں