سرینگر اوردیگرٹاؤنس میں عید کی شاپنگ کیلئے گہماگہمی

عید الفطر سے قبل شاپنگ یہاں اور جموں و کشمیر کے دیگر ٹاونس میں جمعرات کو گہماگہمی میں تبدیل ہوگئی۔ جبکہ لوگوں کا ہجوم دکانات پر اس و قت امڈ پڑا جب یہ اطلاعات موصول ہوئی کہ عید کا چاند شام کو دکھائی دے سکتا ہے۔ عوام ہفتہ کو عید کی توقع کے ساتھ شاپنگ کررہے تھے لیکن جب یہ اطلاع ملنے کے بعد کہ عیدکا چاند جمعرات کی شام امکانی طور پر دکھائی دے سکتا ہے۔ خریداروں کی طویل قطاریں دکانات پر لگ گئیں۔ اس موقع پر مٹن بیکری ایٹمس ، پولٹری اور دیگر خورد ونوش کی خریداری کے لئے لوگ امڈ پڑے۔ محکمہ ٹریفک کے عہدیدار جو سری نگر میں ٹریفک کی دیکھ بھال کررہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے موٹرکاروں کی غلط مقامات پر پارکنگ کے معاملہ کو نظرانداز کردیا ہے اور شاپنگ کے کاونٹر کی توسیع عمل میںلائی ہے اور بیکرس فٹ پاتوں پر اپنے کاونٹرس لگادئے ہیں۔ بچوں کو والدین نگرانی کرتے ہوئے دیکھے گئے تاکہ وہ ہجوم میں کہیں گم نہ جائیں۔ جبکہ پٹاخوں کی خریداری کیلئے بھی ہجوم دیکھا گیا ہے۔ دکانداروں نے حکام پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے بلیک مارکٹرس انہوں نے مطلوبہ اشیاء مقررہ قیمت سے زیادہ فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔ بیشتر دفاتر اور تعلیمی ادارے بہت جلد سنسان ہوگئے۔ ہر کوئی اپنے مکان کو پہنچنے کو ترجیح دے رہا تھا۔ کشمیر جہاں ہمیشہ تشدد دیکھا جاتا ہے عام زندگی گذشتہ 30 دنوں سے مفلوج تھی۔ لیکن اس موقع پر بطور خاص لوگ شاپنگ کیلئے نکل آئے اور اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں سے ملاقات کرتے ہوئے دیکھے گئے اور سماجی سرگرمیوں میں بھی مشغول دکھائی دئیے۔ جبکہ مرکزی حکومت نے رمضان کی فائر بندی کا اعلان کیا ہے۔ عوام آزادانہ طور پر علاقوں میں گھوم رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں