سرینگر میں ممتاز صحافی شجاعت بخاری کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا

سینیئر صحافی اور اخبار ’رائزنگ کشمیر‘کے ایڈیٹر انچیف شجاعت بخاری اور ان کے دو شخصی سیکورٹی عہدیداروں کو دہشت گردوں نے آج قلب ِ شہر سری نگر میں مذکورہ افراد کے دفتر کے باہر گولی مار کر ہلاک کردیا ۔ 53 سالہ بخاری کو جنہوں نے قومی روزنامہ ’’دی ہندو‘‘ کے لیے کئی برس تک ریاستی نامہ نگار کی حیثیت سے کام کیا تھا ، آج جیسے ہی وہ اپنے دفتر سے اپنی کار میں سوار ہوئے دہشت گردوں نے انہیں گولی مار دی ۔ بخاری کا دفتر قلب شہر سری نگر لال چوک میں اور پریس انکلیو میں واقع ہے ۔ پولیس نے اس واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردوں نے آج شام سینئر صحافی و ایڈیٹر انچیف روزنامہ ’رائزنگ کشمیر‘ شجاعت بخاری پر ، پریس انکلیو میں فائرنگ کردی۔ ’’جس وقت شجاعت بخاری پریس انکلیو کے قریب کار میں جارہے تھے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی ۔ بخاری اور ان کے ساتھ موجود ایک پرسنل سیکورٹی آفیسر عبد الحامد برسر موقع ہلاک ہوگئے۔ دوسرے پرسنل سیکوریٹی آفیسر کو نازک حالت میں اسپتال میں شریک کرایا گیا ، جہاں وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکا ۔‘‘ پولیس نے ایک بیان میں یہ بات بتائی اور کہا کہ ’’ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک دہشت پسندانہ حملہ تھا۔ پولیس ، اس کیس کی تحقیقات کررہی ہے اور دہشت گردی کی اس وحشیانہ حرکت کی مذمت کرتی ہے۔ موصولہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ نامعلوم عسکریت پسندوں کی تعداد 3 تھی اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ افراد بخاری کے انتظار میں تھے اور دفتر سے ان کے نکلنے کے وقت کے بارے میں واقف تھے۔ نامعلوم عسکریت پسندوں نے بخاری کو لے جانے والی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی اور ایک پرسنل سیکورٹی آفیسر عبدالحمید کا ہتھیار لے کر موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔ بخاری کے پسماندگان میں اہلیہ ، ایک فرزند اور ایک دختر شامل ہیں۔ دوسرے پرسنل سیکورٹی آفیسر کا نام حمید بتایا جاتا ہے۔ بعد میں اسپتال میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکا ۔ فائرنگ میں ایک شہری بھی زخمی ہوا۔ شجاعت بخاری ، محبوبہ مفتی حکومت کے ایک وزیر بشارت احمد بخاری کے بھائی ہیں۔ محبوبہ مفتی ہلاکت کے مذکورہ واقعات پر بے حد مضطرب ہوگئیں اور رو پڑیں ۔ انہوں نے شجاعت بخاری کی بے دردانہ ہلاکت کے واقعہ کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی انتہائی نچلی سطح تک گر گئی ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہاکہ انصاف کیا جائے گا۔ ’’ہمیں ان قوتوں کے خلاف متحد ہوجانا چاہیے جو امن کی بحالی کے لیے ہماری کوششوں کی بیخ کنی کررہے ہیں۔ دہشت گردی کی لعنت نے عید سے عین قبل اپنا ناپاک سر ابھارا ہے۔‘‘

جواب چھوڑیں