شجاعت بخاری کی ہلاکت، آزادئ صحافت پر حملہ اور بزدلانہ حرکت

ملک کے ممتاز سیاست دانوں بشمول مرکزی وزراء اور اپوزیشن قائدین و نیز میڈیا اداروں نے سینئر صحافی شجاعت بخاری کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور صدمہ کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس ہلاکت کو ایک بزدلانہ حرکت اور کشمیر کی دانشمندانہ صداؤں کو خاموش کرنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ شجاعت بخاری ایک باہمت اور بے باک صحافی تھے۔ ان کی موت سے مجھے انتہائی دکھ ہوا اور تکلیف پہنچی ۔ میری ہمدردیاں اور دعائیں غمزدہ خاندان کے ساتھ ہیں ۔ ‘‘ راج ناتھ سنگھ نے ٹوئٹر پر ان خیالات کا اظہار کیا ۔ صدرِ کانگریس راہول گاندھی نے شجاعت بخاری کو ایک ’’شیر دل ‘‘ شخصیت قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں امن و انصاف کے لیے بے خوف لڑائی کی تھی۔ مجھے ان کی ہلاکت کی خبر سن کر بے حد تشویش ہوئی ۔ میں ان کے ارکانِ خاندان سے اظہارِ تعزیت کرتا ہوں ۔ شجاعت بخاری کی کمی محسوس ہوتی رہے گی ۔‘‘ راہول گاندھی نے ٹوئٹر پر ان احساسات کا اظہار کیا ۔ اسی دوران مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے شجاعت بخاری کی ہلاکت کے واقعہ کو آزادئ صحافت پر وحشیانہ حملہ قرار دیا اور کہا کہ ’’یہ حملہ دہشت گردوں کی ایک بزدلانہ اور افسوسناک حرکت ہے۔ ہمارا بے باک میڈیا ہماری جمہوریت کی ایک عظیم ترین طاقت ہے اور ہم میڈیا ارکان کو کام کرنے کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے پابند ہیں ۔ بی جے پی کے جنرل سکریٹری رام مادھو نے بھی شجاعت بخاری کی ہلاکت کے واقعہ پر صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کو دہشت گردوں کی افسوسناک ، مذموم اور بزدلانہ حرکت قرار دیا۔ اسی دوران ایڈیٹرس گلد آف انڈیا نے مذکورہ بزدلانہ حملہ کی مذمت کرتے ہوئے شجاعت بخاری کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور انہیں عصریت کی آواز قرار دیا۔ گلڈ نے شجاعت بخاری کو ایک باہمت اور ایسا دل والا ایڈیٹر قرار دیا جو کشمیر کے نوجوان صحافیوں کے ایک بڑے کیڈر کے لیے باعث ِ رہنما تھا۔ ایڈیٹرس گلڈ نے اپنے بیان میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ جموں و کشمیر میں تمام کارکرد صحافیوں کے لیے سیکورٹی بڑھا دی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایک صحافی پر حملہ ، آزاد صحافت اور متحرک جمہوریت کی بنیاد کے لیے ایک چیلنج ہے۔ اسی دوران کانگریس کے کمیونکیشن انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے بخاری کی ہلاکت پر صدمہ کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’میرے اضطراب کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں ملتے ۔ جموں و کشمیر میں سلامتی کی صورتِ حال پستی کی انتہا کو پہنچ گئی ہے ۔ مرکز کو چاہیے کہ وہ عاجلانہ کارروائی کرے اور قاتلوں کو پکڑے ۔ وہ (قاتلین) ہمیں خاموش تو کرسکتے ہیں ، لیکن ہمارے افکار کو دبا نہیں سکتے۔

جواب چھوڑیں