کجریوال کا احتجاج چوتھے دن بھی جاری

لیفٹننٹ گورنر کے دفتر میں چیف منسٹر اروند کجریوال اور ان کے کابینی رفقاء کا بیٹھے رہو احتجاج آج چوتھے دن میں داخل ہوگیا۔ وزیر صحت ستیندر جین کی جانب سے بھوک ہڑتال دوسرے دن میں داخل ہوگئی۔ جبکہ ڈپٹی چیف منسٹر منیش شیشوڈیا نے اپنا ایک دن مکمل کرلیا۔ ہیلت چیک اپ کے دوران آج صبح دونوں وزراء کے معائنہ معمول کے مطابق رہے۔ کجریوال، شیشوڈیہ ، جین اور گوپال رائے راج نواس میں کیمپ کئے ہوئے ہیں جو کہ لفٹننٹ گورنر انیل بیجل کا دفتر اور رہائشی مقام ہے یہ احتجاج پیر کی شام سے جاری ہے۔ دہلی چیف منسٹر نے کہاکہ وہ اور ان کے رفقاء بیجل کے دفتر سے اس وقت تک نہیں نکلیں گے جب تک ان کے مطالبات کی تکمیل نہیں ہوگی۔ مطالبات میں آئی اے ایس عہدیداروں کو جو دہلی انتظامیہ کے تحت کام کررہے ہیں۔ ان کی ہڑتال کو ختم کرانا اور ان عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرنا ہے جنہوں نے 4 ماہ سے کام کو روک دیا ہے اور ان کی حکومت کی تجویز کو غریب افراد کے لئے راشن دہلی تک پہنچایا جائے جس کی منظوری ضروری ہے۔ 4 وزراء بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، لفٹننٹ گورنر اور مرکزی حکومت پر ٹویٹ کے ذریعہ تنقیدوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں)۔ کجریوال نے لفٹننٹ گورنر کے سیکوریٹی جوانوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کے بھائی جو پونے سے آئے ہیں۔ ان سے ملنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ ہر صحیح سوچ رکھنے والا شخص یہی سوال کررہا ہے کہ کیوں مرکز آئی اے ایس کی جانب سے ہونے والی ہڑتال کو ہوا دے رہا ہے۔ مرکز کس طرح راشن کی اجرائی دہلیز تک اجراء کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ یہ بالکل معمولی اور غیر متنازعہ دلتوں کے مطالبات ہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ وہ ان کے مطالبات کو قبول نہ کرنے کے پس پشت کیا مقصد کارفرما ہے۔ سمجھتے ہیں یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ دہلی کے لوگ آخر کیا مطالبات کررہے ہیں کہ راشن دہلیز تک اجراء کیا جائے اور آئی اے ایس عہدیداروں کی ہڑتال ختم کردی جائے۔ دنیا میں کون ایسا ہے کہ اسے غلط کہے گا؟ اور ایسا کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ آج چوتھا دن ہے اور میں ان کے صحیح مقصد کے بارے میں محسوس نہیں کررہا ہوں۔ وزراء اپنے تمام سرکاری فائیلس کی لفٹننٹ گورنر کے دفتر سے یکسوئی کررہے ہیں۔ انہیں کجریوال کی رہائش گاہ سے غذا فراہم کی جارہی ہے۔ چہارشنبہ کو عام آدمی پارٹی کے سینکڑوں حامی اپنے قائدین کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے تاکہ وزراء کے احتجاج کی تائید کا اظہار کیا جاسکے۔ انہوں نے چیف منسٹر کی قیام گاہ سے لفٹننٹ گورنر کے مکان تک مارچ کیا۔ پیر سے اس علاقہ میں پولیس اور سی آر پی ایف کا بھاری بندوبست کیاگیا ہے اور مزید کی تعیناتی چہارشنبہ کو کی گئی تاکہ احتجاجی مارچ سے کسی بھی بحران سے گریز کیا جاسکے۔ عاپ نے جمعرات کو راجپت پر کینڈل مارچ کا منصوبہ بنایا ہے اور خبردار کیا کہ وزیراعظم کی قیام گاہ پربھی احتجاج کیا جائے گا۔ اگر ان کے مطالبات کی تکمیل نہیں کی جائے گی۔ چیف منسٹر کی جانب سے بیٹھے رہو احتجاج کا جواب دینے کیلئے بی جے پی نے بھی چہارشنبہ کو جوابی احتجاج کا آغاز کیا جس کے دوران قومی دارالحکومت نے پانی، برقی کی قلت جیسے مسائل کو اجاگر کیا گیا۔ دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال نے آج وزیراعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے ان سے یہ خواہش کی کہ وہ آئی اے ایس عہدیداروں کی ہڑتال ختم کرنے کیلئے مداخلت کریں۔ ہڑتال کے تعلق سے یہ دعویٰ کیاگیا ہے کہ لفٹننٹ گورنرانیل بائیجل تعطل توڑنے کیلئے کچھ نہیں کررہے ہیں۔ مودی کو تحریر کردہ خط میں کجریوال نے مثالیں پیش کیں کہ جب حکومت کا کام رک جاتا ہے اور عہدیدار میٹنگس میں شرکت نہیں کرتے۔ جبکہ وزراء بھی گذشتہ تین ماہ سے ان میں شرکت نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مانسون سے قبل موریوں کی صفائی کی جائے اور ہر محلہ میں کلینک قائم کئے جائیں اور دہلی میں فضائی آلودگی کو ختم کرنے کے اقدامات شروع کئے جائیں کیوں کہ وہ ان دنوں آلودگی کا شکار ہے جو مبینہ آئی اے ایس عہدیداروں کی ہڑتال کا نتیجہ ہے انہوں نے کہا آئی اے ایس عہدیداروں اور وزراء کے درمیان گذشتہ تین ماہ سے کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔ تاکہ فضائی آلودگی کے مسئلہ کی یکسوئی ہوسکے۔ یہاں تک کہ فضاء میں زہریلے ذرّات پائے جاتے ہیں جن کی گذشتہ تین دنوں میں خطرہ کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ مرکز اور لفٹننٹ جنرل کا آئی اے ایس عہدیداروں پر کنٹرول ہے اور وہ دہلی حکومت کے تحت ہے اور ان کی ہڑتال چند گھنٹوں میں ختم ہوجانی چاہئے۔ ہڑتال کی وجہ سے کئی کام متاثر ہوئے ہیں جبکہ لفٹننٹ گورنر کچھ نہیں کررہے ہیں۔ دہلی کی حکومت اور عوام آپ سے ہاتھ جوڑکر درخواست کرتے ہیں کہ ہڑتال کو فوری طور پر برخاست کرنے کیلئے مداخلت کریں تاکہ دہلی میں کام کاج کا پھر آغاز ہوسکے۔ کجریوال نے یہ بات اپنے مکتوب میں کہی۔ انہوں نے کہاکہ مانسون سے قبل موریوں کی صفائی کا آغاز ہوجانا چاہئے لیکن عہدیدار نے میٹنگ میں شرکت نہیں کررہے ہیں۔

جواب چھوڑیں