کے سی آر ، نئی دہلی سے خالی ہاتھ نہ آئیں : محمد علی شبیر

قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی منظوری کیلئے دباؤ ڈالیں ۔ کسی بھی حال میں خالی ہاتھ نہ آئیں ۔ منظوری نہ ملنے پر جنتر منتر پر دھرنا منظم کریں ۔ یا پھر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ اگر یہ بھی نہ ہوسکا تو نئی دہلی سے مسلمانوں سے معذرت خواہی کا اعلان کریں ۔ محمد علی شبیر آج اسمبلی کے میڈیا ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے بلند و بانگ دعوے کئے تھے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 12فیصد تحفظات کیلئے ان کی نمائندگی پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ چنانچہ ریاستی اسمبلی میں مسلم تحفظات بل منظور کیا گیا کانگریس نے بھی اس بل کی تائید کی تھی ۔ اسمبلی میں بل منظور ہوئے14ماہ گذرچکے ہیں لیکن آج تک مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ۔ انہوںنے کے سی آر سے سوال کیا کہ آپ، وزیر اعظم سے دوٹوک انداز میں اس مسئلہ پر نمائندگی کیوں نہیں کرتے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چیف منسٹر، نریندر مودی سے بہت ہی خوفزدہ ہیں۔ کے سی آر نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی توغیر مشروط تائید کی لیکن وہ تقسیم ریاست بل میں کئے گئے اعلانات بشمول بیارم اسٹیل فیاکٹری، قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ کا قیام، ہائی کورٹ کی تقسیم، ٹرائیبل یونیورسٹی کے قیام کے بشمول 12فیصد تحفظات کی منظوری پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے اپنے آپ کو وزیر اعظم نریندر مودی کو خود سپرد کردیا ہے ۔ یا دونوں میں کوئی خفیہ معاہدہ ہوچکا ہے ۔ اس لئے وہ ر یاست کے مفادات پر کوئی آواز بلند کرنا نہیں چاہتے ۔ قائد اپوزیشن نے چیف منسٹر کے سی آر کو پرگتی بھون کامینڈک قرار دیا۔انہوںنے کہا کہ کے سی آر ، پرگتی بھون کو ہی ساری دنیا سمجھ رہے ہیں۔ آندھرا کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو مرکز سے ناانصافی کے خلاف احتجاج بلند کررہے ہیں لیکن افسوس کے سی آر نے آج تک مرکز کی نا انصافی کے خلاف آواز بلند نہیں کی ۔ پریس کانفرنس میں موجود ڈپٹی فلور لیڈر پی سدھا کر ریڈی نے کہا کہ اے پی تنظیم جدید بل میں کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل پر انہوںنے مرکزی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے ۔ انہوںنے چیف منسٹر کے سی آر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر نے ریاست کے مفادات کو مرکز کی بی جے پی حکومت کے پاس رہن رکھ دیا ہے اسی لئے وہ مرکز کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں کرتے ۔ چنانچہ انہیں ریاست کو کسی بھی پراجکٹ کی عدم منظوری پر سپریم کورٹ سے رجوع ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی بی جے پی بھی تلنگانہ کے پراجکٹ کی منظوری کیلئے مرکزی حکومت سے نمائندگی کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔

جواب چھوڑیں