پاکستان میں پیدا تین بھائیوں کو ہندوستانی شہریت

تین بھائی جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی تھی ،کو تقریبا14سال کے بعد ہندوستانی شہریت دے دی گئی ۔اس سلسلہ میں تلنگانہ کے نظام آباد میں ان نوجوانوں کو ہندوستانی شہریت کے دستاویزات افسروں نے حوالے کئے ۔ان نوجوانوں کی ماں کی شادی 1988میں پاکستانی باشندہ سے ہوئی تھی جس کے بعد یہ خاتون پاکستان منتقل ہوگئی تاہم طلاق کے بعد یہ خاتون اپنے تین بچوں کے ساتھ نظام آباد واپس ہوگئی ۔اس خاتون کے تین بچے لانگ ٹرم ویزا پر تھے ۔مرکز نے ہندوستانی شہریت کے لئے ان کی درخواست کو منظوری دے دی۔اس سلسلہ میں سرٹیفکیٹس محمد سنان،محمد رومان اور محمد سیف کو نظام آباد ریونیو ڈیویثرنل افسر نوین کمار نے حوالے کئے ۔افسروں کے مطابق نظام آبا دکی بودھن روڈ کے قریب کے علاقہ میں رہنے والی 55سالہ فیض النسا بیگم کی شادی 1988میں پاکستان کے بہاولپور کے رہنے والے ندیم جاوید کے ساتھ ہوئی تھی جس کے بعد یہ خاتون بہاولپور منتقل ہوگئی تھی ۔اس جوڑے کو تین بیٹے ہیں تاہم خاندانی تنازعات کے سبب ان کی 2004میں علحدگی ہوگئی ۔یہ خاتون طلاق کے بعد اپنے تین بیٹوں کے ساتھ اپنے وطن واپس ہوگئی۔ان تین بچوں کو لانگ ٹرم ویزا2004 سے منظور کیاگیا ۔ان بچوں کو ہندوستانی شہریت کے لئے درخواست دی گئی ۔قواعد کے مطابق کوئی بھی بیرونی شہری سات سال تک ہندوستان میں قیام کے بعد ہی یہاں کی شہریت کے لئے درخواست دے سکتا ہے ۔اس درخواست پر وزارت خارجہ نے 24اپریل 2018کو ان کو ہندوستانی شہریت دی ۔اس سلسلہ میں دستاویزات ان نوجوانوں کوان کی ماں کی موجودگی میں دیئے گئے ۔

جواب چھوڑیں