کٹھوعہ عصمت ریزی و قتل کیس‘ بچی کو بہت زیادہ نشہ آور گولیاں جبراًدی گئی تھیں: فارنسک ماہرین

 فارنسک ماہرین نے کہا ہے کہ کٹھوعہ میں اس سال جنوری میں 8 سالہ لڑکی کی عصمت دری سے قبل اسے جبراً نیند کی کافی گولیاں دی گئیں، جس کی وجہ سے وہ کوما میں چلی گئی۔ ملزمین نے بچی کو منارکینڈی ( مقامی گانجا ) اور ایپٹرل 0.5 ایم جی گولیاں کھلائی تھیں، اس معاملے کی جانچ کررہی جموں وکشمیر پولیس کی کرائم برانچ نے نشیلی دوائوں کے اثر کی جانچ کرنے کے لئے بچی کا سیمپل وسرا فارنسک لیب میں بھیجا تھا۔حال ہی میں کرائم برانچ کو ملی رپورٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ 8 سال کی لڑکی کو دی گئی گولیوں سے ممکنہ طور پروہ صدمے کی حالت میں یا کوما میں چلی گئی۔ کرائم برانچ نے میڈیکل ماہرین سے 8 سالہ لڑکی کواس کے خالی پیٹ رہنے کے دوران دی گئی ان دوائیوں کے ممکنہ اثر کے بارے میں دریافت کیا تھا۔کرائم برانچ نے تب تفصیلی رائے جاننے کا فیصلہ کیا جب عدالت میں ملزمین اور ان کے وکیلوں نے اورسوشل میڈیا پر ان کے حامیوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تقریباً ناممکن ہے کہ لڑکی پر حملہ ہورہا ہو اوروہ چلائی نہ ہو۔ وسرا کے جانچ کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے کہا کہ لڑکی کو جو دوا دی گئی تھی، اس میں کلونا زیپام سالٹ تھا جو مریض کے عمر اور وزن کو دھیان میں رکھ کر طبی نگرانی میں ہی دیا جاتا ہے۔طبی رائے میں کہا گیا ہے “اس کے (متاثرہ کے) 30 کلو گرام وزن کو دھیان میں رکھتے ہوئے مریض کو تین خوراک میں تقسیم کرکے فی دن 0.1 سے 0.2 ایم جی دوا دینے کی سفارش کی جاتی ہے”۔ اس میں کہا گیا ہے “اسے 11 جنوری کو زبردستی 0.5 ایم جی کلونازیپام کی پانچ گولیاں دی گئیں، جو محفوظ مقدارسے بہت زیادہ تھی۔ بعد میں بھی اسے مزید گولیاں دی گئیں۔ زیادہ مقدار کے اشارے اورعلامت نیند، خوف، سمجھ میں کمی، ردعمل کی سرگرمی میں گراوٹ، سانس کی رفتار میں کمی یا رکاوٹ، کوما اور موت بھی ہوسکتی ہے”۔

جواب چھوڑیں