جلال آباد میں سکھوں اور ہندوؤں کے قافلہ پر خودکش حملہ ‘ 20 ہلاک

افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں آج ایک خودکش بم بردار نے صدرِ افغانستان اشرف غنی سے ملاقات کے لیے جانے والے سکھوں اور ہندوؤں کے ایک قافلہ پر حملہ کردیا ۔ کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے۔ ننگر ہار میں صوبائی اسپتال کے ترجمان انعام اللہ میاخیل نے بتایا کہ 20 مہلوکین کے منجملہ 17 ، اقلیتی سکھ اور ہندو فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 20 زخمیوں کے منجملہ کم از کم 10 زخمی بھی اُسی اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جلال آباد اسپتال میں اِن زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ ایک زخمی سکھ نریندر سنگھ نے جلال آباد میں اپنے بستر علالت سے اے پی کو فون پر بتایا کہ مذکورہ حملہ کے ذریعہ ان کے قافلہ کو نشانہ بنایا گیا ۔ سنگھ ، اپنے والد اوتار سنگھ خالصہ کے بارے میں بہت پریشان تھے اور فون پر رونے لگے۔ اوتار سنگھ خالصہ بھی مذکورہ وفد میں شامل تھے۔ میاخیل نے توثیق کی کہ خالصہ ، سکھ فرقہ کے ایک دیرینہ قائد تھے ، جنہوں نے آئندہ اکتوبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وہ اس حملہ میں ہلاک ہوگئے۔ صوبائی گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوگیانی نے بتایا کہ حملہ کے نتیجہ میں متعدد دکانیں اور گاڑیاں شعلوں کی لپیٹ میں آگئیں۔ ننگر ہار پولیس چیف جنرل غلام ثنائی ستانک زئی نے بتایا کہ حملہ آور نے گورنر کے کمپاؤنڈ کو جانے والے ایک گروپ کو نشانہ بنایا ۔ اس گروپ نے صدر اشرف غنی سے ملاقات کا منصوبہ بنایا تھا ، جو آج اس علاقہ کا دورہ کررہے تھے ۔ کسی نے بھی فوری طور پر مذکورہ حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، لیکن اس صوبہ میں طالبہ اور اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) سے وابستہ تنظیمیں سرگرم ہیں۔ اسی دوران پی ٹی آئی کی اطلاع کے بموجب ہندوستان نے افغانستان میں سکھوؤں اور ہندوؤں کے قافلہ پر ہوئے دہشت پسندانہ حملہ کی مذمت کرتے ہوئے اس کو ’’گھناؤنی اور بزدلانہ حرکت‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس واقعہ نے بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف متحدہ عالمی لڑائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کابل میں سفارت خانہ ہند نے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’’ہم اِس گھناؤنے ، بزدلانہ اور دہشت پسندانہ حملہ کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ آج شام ہوئے اس حملہ میں 20 بے قصور افغان شہری ہلاک ہوئے ، جن میں 10 افغان سکھ کمیونٹی کے ارکان تھے ، زائد از 20 افراد زخمی بھی ہوئے ۔ ہم ، مہلوکین کے خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہیں ۔ بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف کسی امتیاز کے بغیر متحدہ عالمی جدوجہد کی ضرورت ہے اور ان افراد کو جوابدہ بنانا ہے جو کسی بھی طریقہ سے دہشت گردوں کی تائید کرتے ہیں۔‘‘

جواب چھوڑیں