جی ایس ٹی کے سبب محاصل کی وصولی میں بھاری اضافہ: جیٹلی

بی جے پی کے سینئر قائد اور مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے آج کانگریسی زیر قیادت یوپی اے پر الزام لگایاکہ وہ اشیاء اور خدمات ٹیکس( جی ایس ٹی) جس کا بہت چرچہ رہا ہے کو روبہ عمل لانے میں ناکام رہی ہے کیونکہ وہ ریاستوں کیلئے اطمینان بخش سطح کو فروغ دینے میں ناکام رہی ہے۔ جب ہم نے مئی 2014میں جائزہ لیا تھا تب ہم نے واضح کردیا تھا کہ ریاستوں کے اندیشوں کو دور کردیا گیا۔ جیٹلی نے یہاں اُن کے پہلے جی ایس ٹی یوم کے تقریب منانے سرکاری تقریب میں اپنی ویڈیو تقریر میں یہ بات بتائی۔ انہوںنے بتایاکہ 14مئی 2014تک محسوس کیا جاتا رہا ہے کہ ضرورت ہے کہ مرکز اپنے سیلس ٹیکس کے مقابل ریاستوں کو دیئے گئے تیقنات کی تکمیل کرے کیونکہ ریاستی حکومتوں کو مرکزی حکومت پر اعتماد میں دشواری پیش آرہی تھی۔ انہوںنے یہ بھی بتایاکہ قبل ازیں ریاستوں کو کسی نامعلوم بات کا اندیشہ تھا لہٰذا مصنوعاتی تیار کنندہ ریاستیں بھی اِس میں شامل ہونے تیار نہیں تھیں۔ انہوںنے بتایاکہ جو نہی این ڈی اے کی حکومت نے جائزہ لیا تب ریاستوں تک رسائی کی کوشش کی گئی اور انہیں بہت ہی مطمئن کردیا گیا۔ جیٹلی نے نئی ٹیکس اصلاحات کے اہم مسائل پرفیصلے کیلئے اتفاق رائے پر مبنی طریقہ کار کی بناء پر جی ایس ٹی کونسل کی ستائش کرتے ہوئے بتایاکہ کونسل ملک کی پہلی وفاقی فیصلہ ساز تنظیم کی حیثیت سے کام کرنے رول ماڈل بنے گی۔ کونسل نے اتفاق رائے کے ساتھ دوستوری ترمیم بل کو منظور کیا ہے اور اتفاق رائے کے ساتھ ہی تمام معاون قانون سازیوں اور تمام قواعد کو بھی منظوری دی ۔ انہوںنے بتایاکہ ریاستی اور مرکزی وزرائے فینانس کے پیانل نے بھی ان تمام شرحوں کو اتفاق رائے کے ساتھ منظور کیا۔ انہوںنے بتایاکہ اس وقت تک کونسل کی 27نشستیں ہوئی ہیں اور وہ باور کرتے ہیں کہ مختلف شعبوں میں یہ حکمرانی کیلئے ایک رول ماڈل بن گئی ہے۔ انہوںنے بتایاکہ حکومت اور جی ایس ٹی کونسل اب شرحوں کو معقولیت پسندانہ بنانے کی کارروائی کررہے ہیں۔ جیٹلی 2014سے وزیر فینانس کے عہدے پر فائز رہے ہیں اور وہ اب زیر علاج ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ گذشتہ سال راست محصول اضافہ ہوا ہے جس کا بڑا سبب جی ایس ٹی فوائد رہے ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ ہم نے بہت سے لوگوں کو انکم ٹیکس دائرہ کار میں شامل کیا ہے اس سال کے پہلے سہ ماہی وقفہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیشگی ٹیکس ادائیگی کے مجموعی اعدادوشمار میں شخصی آمدنی کے سلسلہ میں 44فیصد اور کارپوریٹ ٹیکسوں میں اضافہ رہا ہے۔

جواب چھوڑیں