جی ایس ٹی کے نفاذ سے نظام وصولی محاصل میں شفافیت:پیوش گوئل

مرکزی وزیر فینانس پیوش گوئل نے آج اشیاء وخدمات ٹیکس جی ایس ٹی کو ایک عظیم اتحادی عنصر اور ایک بہت ہی شفاف نظام کا نقیب قراردیتے ہوئے خیر مقدم کیا جس سے صاف ستھری معیشت کی حوصلہ افزائی ہوگی اور ساتھ ہی ساتھ ٹیکس میکانزم میں مداخلت کے خاتمہ کو یقینی بنایاجاسکے گا۔ یکساں ٹیکس طریقہ کار کے نفاذ کے پہلے سال کی تکمیل پر یوم جی ایس ٹی منانے کیلئے منعقدہ تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے گوئل نے بتایاکہ صارفین کو جی ایس ٹی سے بہت فائدہ پہنچا ہے اور اِس سے شفافیت کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ انہوںنے بتایاکہ جی ایس ٹی کا یہ ایک بڑا کارنامہ ہے۔ نئے طریقہ کار سے چھوٹے تاجرین ‘بیوپاریوں کیلئے حکمت عملی تبدیلی اثرات مرتب ہوں گے۔ جی ایس ٹی اسی اقدام کے مترادف ہے جیسا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے ملک کو متحد کیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ ملک کی معیشت کو بھی متحد کیا تھا۔ گوئل نے بتایاکہ بالخصوص جی ایس ٹی کے مثبت اثرا ت نوجوانوںپر مرتب ہوئے ہیں جو اپنے بزرگوں کے برعکس ایک شفاف طریقہ کار کے ساتھ کسی قسم کے مسائل کے بغیر کاروبار کرنا چاہتے ہیں۔ علاوہ ازیں جی ایس ٹی کے ذریعہ یہ واضح کردیا گیا ہے کہ آئندہ مارکٹ آزادانہ اور منصفانہ مسابقت کیلئے کھلی رہے گی۔ حتیٰ کہ مسابقت کیلئے تک بھی بیوپاری اکثر ٹیکس چوری کیلئے نامناسب ذرائع اختیار کرتے ہیں۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے جنرل سکریٹری ہس مکھ ادھیا نے بتایاکہ یکم جولائی کو مناسب طورپر یوم تقریب کی حیثیت سے نامزد کیا گیا ہے کیونکہ اِس سے جفا کشی کی یوم تقریب کی نمائندگی ہوتی ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران جی ایس ٹی کی کارکردگی بہت ہی اچھی رہی۔ انہوںنے بتایاکہ آمدنی میں اضافہ کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی ہے اور اس سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے کسی قسم کے کوئی افراط زر اثرات بھی پیدا نہیں ہوئے ہیں۔ حال ہی میں آسٹریلیاء کے ایک وفد نے ہندوستان میں جی ایس ٹی عمل آوری کی ستائش کی۔ انہوںنے شفاف سیاسی عزم کی ستائش کی جس سے حقیقی طورپر جفا کش افسر شاہی کو تقویت پہنچی ہے تاکہ نئے ٹیکس میکانزم کو نافذ کیا جاسکے ۔ انہوںنے بتایاکہ پہلے دن سے ہی جی ایس ٹی کیلئے سیاسی عزم رہا ہے اور ہمیں چاہئے کہ ہم اس بات کو تسلیم کریں۔

جواب چھوڑیں