سوئز بینک میں ہندوستانیوں کے کالے دھن میں اضافہ:مایاوتی

بہوجن سماج پارٹی بی ایس پی کی صدر مایاوتی نے سوئزرلینڈ میں کالے دھن ڈپازٹس میں اضافہ کی رپورٹس پر نریندرمودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے امریکہ میں کارکرد ویزوں کے حامل ہندوستانیوں کو ہراساں کرنے کے مسئلہ کو اٹھایا۔ انہوںنے دعویٰ کیاکہ اپوزیشن کا اتحاد ہی ذات پات اور مخالف عوام بی جے پی کا واحد حل ہے لہٰذا ایسی صورت میں ہی عوامی مسائل کا سد باب کیا جاسکتا ہے۔ انہوںنے الزام لگایاکہ 50فیصد کالے دھن میں اضافہ کا سہرا بی جے پی حکومت کے سر باندھنا چاہئے ۔ اِس سے واضح ہوتا ہے کہ نریندرمودی کے صنعت کار دوستوں کو گذشتہ 4سالوں کے درمیان فائدہ پہنچاہے اور ملک کا عام آدمی اور بھی زیادہ غریب ہوگیا ہے ۔ انہوںنے سوال کیاکہ کیا بی جے پی اِس بات کا جواب دے سکتی ہے کہ صنعتکاروں کی دولت میں این ڈی اے حکومت کے دوران کئی گنازیادہ اضافہ کیوں ہوا ہے اور عوام کی مصیبت بڑھ گئی ہے۔ انہوںنے بتایاکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی کالے دھن کو فروغ دے رہی ہے۔ آج یہاں جاری کردہ بیان میں مایاوتی نے بی جے پی سے سوال کیاکہ کس طرح سے کالا دھن سوئز بینک پہنچاہے ۔ کیا بات نریندرمودی کی جانب سے بیرونی بینکوں سے کالے دھن کو واپس لانے میں ناکامی نہیں۔ انہوںنے حکومت سے تیز رفتار کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایاکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے امریکی نئی پالیسی پر اعتراض کریں۔ مایاوتی نے اجولا ایل پی جی اسکیم پر بی جے پی کے پروپگنڈہ پر تنقید کرتے ہوئے بتایاکہ 125 کروڑ آبادی کے مٹھی بھر خاندانوں کو ایل پی جی کی فراہمی مضحکہ خیز ہے۔ بی جے پی کو اِس اسکیم سے کسی اور بات کی نہیں بلکہ فائدہ اٹھانے سے دلچسپی ہے۔ جی ایس ٹی کی پہلی سالگرہ کے موقع پر بی ایس پی کی صدر نے بتایاکہ اسکیم کے شفاف جائزہ کی ضرورت ہے جبکہ اس میں ہوئی غلطیوں کو فوری دور کیا جانا چاہئے۔

جواب چھوڑیں