ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف امریکہ میں مظاہرے

 امریکہ بھر میں تمام شعبہ حیات کے ہزاروں امریکی سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے خاندانوں کو یکجاکرو کے نعرے لگائے۔ انہوں نے صدرٹرمپ کی زیروٹالرنس پالیسی لاگو ہونے کے لگ بھگ 2ماہ بعد یہ احتجاج کیا۔ امریکی صدر کی اس پالیسی کا مقصد ویزا؍ایمگریشن کاغذات نہ رکھنے والوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔اس پالیسی کے نتیجہ میں ہزاروں بچے اپنے ماں باپ سے بچھڑگئے۔ ہفتہ کے دن بڑی ریالی، واشنگٹن ڈی سی میں نکالی گئی لیکن نیویارک، فلاڈلفیا، شکاگو، ڈینور، میامی،سان فرانسسکو اور لاس اینجلس جیسے بڑے شہروں میں سینکڑوں جلوس اور ریالیاں نکلیں۔ ہجوم نے مائگرنٹس کے بچھڑے خاندانوں کو فوری متحد کرنے کا مطالبہ کیا۔ سی این این نے یہ اطلاع دی۔ منتظمین کے بموجب احتجاجیوں نے 3مطالبے کئے کہ بچھڑے مائگرنٹ خاندانوں کو فوری متحد کیاجائے، حکومت خاندانوں کی گرفتاری بند کرے اور ٹرمپ نظم ونسق اپنی زیروٹالرنس پالیسی ختم کرے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤز تک ریالی نکالی گئی حالانکہ صدر ٹرمپ نیوجرسی کے اپنے گولف ریسارٹ میں تھے۔ ٹرمپ ہوٹل کے پاس احتجاجیوں نے شرم ،شرم،شرم کے نعرے لگائے۔ اٹلانٹا میں مظاہرین اپنے ساتھ پنجرے لائے تھے جن میںگڑیاں بند تھیں۔ نیویارک ریالی میں شرکاء کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ بروکلین پل پر سے ریالی کو گذرنے میں 2گھنٹے سے زائد کا وقت لگا۔ ہوسٹن میں سٹی ہال کے سامنے احتجاجیوں نے ’نوبے بی جیلس‘ کے نعرے لگائے۔ ریالیوں میں کئی ممتاز شخصیتوں نے شرکت کی۔ منتظمین نے کہا کہ احتجاج ایک اخلاقی مسئلہ پرکیاگیا۔ یہ دایاں بایاں کا مسئلہ نہیں بلکہ صحیح اور غلط کا معاملہ ہے۔

جواب چھوڑیں