افواہوں کو روکنے واٹس اَپ کا نیا فیچر

 اشتعال انگیز مواد بار بار زیرگشت لانے اس کے پلیٹ فارم کے بے جا استعمال پر حکومت ہند کی تشویش کا نوٹ لیتے ہوئے فیس بک کے ملکیتی واٹس اَپ نے چہارشنبہ کے دن وزارت ِ انفارمیشن ٹکنالوجی کو لکھا کہ کمپنی‘ تشدد کی دہشت زدہ کردینے والی حرکتوں سے پریشان ہے۔ واٹس اپ پر افواہوں اور اشتعال انگیز غیرذمہ دارانہ پیامات کے نتیجہ میں ہجوم کے حملہ میں بے قصور لوگوں کی ہلاکت کے بڑھتے واقعات پر وزارت ِ انفارمیشن ٹکنالوجی نے منگل کے دن واٹس اپ سے کہا تھا کہ وہ فوری کارروائی کرے اور یہ یقینی بنائے کہ واٹس اپ کا استعمال ایسی سرگرمیوں کے لئے نہ ہو ۔واٹس اپ نے وزارت الکٹرانکس و انفارمیشن ٹکنالوجی کو بھیجے گئے مکتوب میں لکھا کہ ہمارا ماننا ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے حکومت‘ سیول سوسائٹی اور ٹکنالوجی کمپنیوں کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ واٹس اپ نے جس کے ہندوستان میں ماہانہ 20 کروڑ سے زائد ایکٹیو یوزرس ہیں‘ کئی اقدامات گنائے جو اس نے اپنے پلیٹ فارم سے غلط جانکاری کا پھیلاؤ روکنے کے لئے کئے ہیں۔ اس نے کہا کہ ہم نے ہندوستان میں ایک نئے کیبل کا تجربہ کیا ہے جو فارورڈ کئے گئے اور سینڈر کے کمپوز کردہ میسیج کے فرق کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ اہم اشارہ بن جاتا ہے کہ میسیج فارورڈ کرنے سے قبل دوبارہ سوچا جائے کیونکہ اس سے پتہ چل جاتا ہے کہ جو میسیج ملا ہے وہ جانکار نے لکھا ہے یا افواہ ہے۔ یہ نیا فیچر جلد لانچ کرنے کا منصوبہ ہے۔ واٹس اپ نے بتایا کہ ہندوستان میں کئی لوگ (لگ بھگ 25 فیصد) گروپ میں نہیں ہیں۔ بیشتر گروپ چھوٹے (10 سے کم افراد) ہیں۔ 10میں سے 9 میسیج آج بھی ایک فرد دوسرے فرد کو بھیجتا ہے۔

جواب چھوڑیں