اقتدار کی رسہ کشی میں کجریوال کی بڑی جیت

سپریم کورٹ نے آج چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کو لیفٹیننٹ گورنر انیل بائجل کے ساتھ اقتدار کی تلخ رسہ کشی میں بڑی جیت عطا کی۔ سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ میں کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کو فیصلے لینے کا آزادانہ اختیار نہیں۔ وہ منتخبہ حکومت کے مشورہ کے پابند ہیں۔ انہیں منتخبہ حکومت کی مدد اور مشورہ سے کام کرنا ہوگا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیرقیادت 5 رکنی دستوری بنچ نے قومی دارالحکومت میں حکمرانی کا وسیع پیمانہ طے کردیا جہاں مرکز اور حکومت دہلی کے درمیان 2014 میں عام آدمی پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے رسہ کشی چلی آرہی تھی ۔2 لیفٹیننٹ گورنرس‘ موجودہ انیل بائجل اور ان کے پیشرو نجیب جنگ سے چیف منسٹر اروند کجریوال کی نہیں جمی۔ وہ ان دونوں پر الزام عائد کرتے رہے کہ مرکز کی ایما پر ان کی حکومت کو کام کرنے نہیں دیا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ نے متفقہ طورپر کہا کہ دہلی کو ریاست کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ چیف جسٹس مشرا نے جنہوں نے اپنی طرف سے اور جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اے ایم کھنولکر کی طرف سے 273 صفحات کا فیصلہ لکھا‘ کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ قومی دارالحکومت علاقہ دہلی کو موجودہ دستوری اسکیم کے تحت ریاست کا موقف نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ دستور تعمیری ہے جس میں لاقانونیت کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ انیل بائجل تبصرہ کے لئے دستیاب نہ ہوسکے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد عام آدمی پارٹی ورکرس اور حامیوں نے جشن منایا۔ انہوں نے سڑکوں پر رقص کیا‘ مٹھائیاں تقسیم کیں اور ڈھول بجائے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مجلس وزرا کے تمام فیصلے جو حکومت دہلی کے منتخبہ نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے‘ ایل جی کے علم میں لائے جانے چاہئیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی منظوری درکار ہوگی ۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ سے اختلاف کیا اور کہا کہ ایل جی میکانیکل انداز میں کام نہیں کرسکتے۔ وہ مجلس وزرا کے فیصلوں کو روک نہیں سکتے۔ ایل جی کو آزادانہ اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ اختلاف ِ رائے کی صورت میں وہ غیرمعمولی معاملات کو ہی صدرجمہوریہ کے پاس بھیج سکتے ہیں۔ اسے معمول نہ بنایا جائے۔ کانگریس نے کہا کہ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کو اب قومی دارالحکومت کی ترقی پھر سے شروع کردینی چاہئے۔آئی اے این ایس کے بموجب سپریم کورٹ کی دستوری بنچ نے چہارشنبہ کے دن اروند کجریوال حکومت کے حق میں متفقہ رولنگ دی اور کہا کہ دہلی میں حکمرانی کے حقیقی اختیارات منتخبہ نمائندوں کے پاس ہیں۔ ایل جی ‘ مجلس وزرا کے مشوروں کے پابند ہیں۔ مجلس وزرا سے اختلاف رائے کی صورت میں ایل جی معاملہ صدرجمہوریہ سے رجوع کرسکتے ہیں جن کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ دہلی ریاستی فہرست اور متوازی فہرست میں شامل کسی بھی مسئلہ پر قانون سازی کرسکتی ہے سوائے اراضی‘ پولیس اور نظم وضبط کے ۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اشوک بھوشن نے علیحدہ لیکن متوازی فیصلہ دیا۔

جواب چھوڑیں