اے ایم یو میں دلتوں کیلئے کوٹہ کیوں نہیں؟رجسٹرار کو درج فہرست ذاتیں و قبائل کمیشن کی نوٹس

اترپردیش درج فہرست ذاتیں و قبائل کمیشن نے آج کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ اس نے یونیورسٹی کو نوٹس جاری کی اور پوچھا کہ وہ ایس سی / ایس ٹی طلبا کو ریزرویشن کیوں نہیں دیتی۔ اے ایم یو‘ ایس سی / ایس ٹی امیدواروں کے لئے نشستیں محفوظ نہیں رکھتی۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اقلیتی ادارہ ہے۔ صدرنشین یوپی ایس سی/ ایس ٹی کمیشن برج لال نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی مختلف ہدایات سے ثابت ہے کہ اے ایم یو‘ اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ برج لال نے لکھنو میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ اے ایم یو‘ اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ میں نے ایس سی/ ایس ٹی طلبا کو ریزرویشن نہ دینے پر اے ایم یو کو نوٹس جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو کے رجسٹرار سے 8 اگست تک جواب مانگا گیا ہے۔ اے ایم یو کسی اور سنٹرل یونیورسٹی کی طرح مرکزی قانون کے تحت بنی ہے اور مرکز کے فنڈس سے چلتی ہے لہٰذا اسے ریزرویشن دینا ہوگا۔ یہ پوچھنے پر کہ اے ایم یو نے مقررہ وقت میں جواب نہیں دیا تو لائحہ عمل کیا ہوگا‘ برج لال نے کہا کہ کمیشن اپنے اختیارات استعمال کرے گا اور سمن جاری کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 1989میں اے ایم یو کورٹ نے داخلہ میں مسلمانوں کو 50فیصد ریزرویشن دینے کی قرارداد منظور کی تھی اور اسے صدرجمہوریہ کو بھیجا تھا جو یونیورسٹی کے وزیٹر بھی ہیں۔ صدرجمہوریہ نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ مسلمانوں کو 50 فیصد ریزرویشن دینا غیردستوری ہوگا۔ ہائی کورٹ نے بھی اسے غیردستوری قراردیا تھا اور کہا تھا کہ اے ایم یو اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ اس طرح ثابت ہوگیا کہ اے ایم یو اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ 6 صفحات کی نوٹس میں کمیشن نے ایس سی/ ایس ٹی طلبا کو ریزرویشن نہ دینے پر ناراضگی ظاہر کی۔ قومی کمیشن برائے درج فہرست ذاتیں کے سربراہ رما شنکر کٹھیریا نے بھی کل اے ایم یو کو ہدایت دی تھی کہ وہ درج فہرست ذاتوں کو ریزرویشن کے مسئلہ پر اپنا موقف واضح کرے ورنہ وہ مرکزی فنڈنگ سے محروم ہوجائے گی۔ یوپی اے حکومت نے اقلیتی ادارہ کے طورپر اے ایم یو کے دعویٰ کی تائید کی تھی جبکہ موجودہ مودی حکومت نے اسے الٹ دیا اور سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے اے ایم یو کے دعویٰ کو مسترد کیا۔ گذشتہ ہفتہ اس وقت تنازعہ پیدا ہوگیا تھا جب چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ(نئی دہلی) کو چاہئے کہ وہ دلتوں کو کوٹہ دیں۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ حلقہ علی گڑھ ستیش گوتم نے 2 جولائی کو وائس چانسلر اے ایم یو کو مکتوب روانہ کیا تھا ۔وائس چانسلر اے ایم یو پروفیسر طارق منصور نے کل پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ ہم دستور اور اس کے آرٹیکل 30 کے تابع ہیں جس کے تحت مذہبی و لسانی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ واضح ہدایت دے چکی ہے کہ اے ایم یو حکام ‘ یونیورسٹی کو 1981 کے اے ایم یو ترمیمی ایکٹ کے تحت چلائیں جس کی رو سے اس ادارہ کو اقلیتی موقف اُس وقت تک حاصل رہے گا جب تک کہ سپریم کورٹ اس معاملہ میں قطعی فیصلہ نہ دے دے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تک ہمارے ہاتھ بندھے ہیں اور ہم کمیشنوں کی ہدایات کو عدالت تک پہنچادیں گے۔

جواب چھوڑیں