تنوی سیٹھ کو پاسپورٹ کی اجرائی غلط نہیں: سرکاری عہدیدار

 لکھنو کے ریجنل پاسپورٹ آفس نے بین مذہبی جوڑے کے پاسپورٹ کو منظوری دے دی ہے ۔نئی دہلی میں ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے جو اندرونی انکوائری کرائی اس سے پتہ چلا ہے کہ لکھنو کے پاسپورٹ عہدیدار نے غیرضروری سوالات پوچھے۔ ریجنل پاسپورٹ آفیسر(آر پی او) لکھنو پیوش شرما نے پی ٹی آئی کو آج لکھنو میں بتایا کہ تنوی سیٹھ اور اَنس صدیقی کے پاسپورٹ کلیر کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف پولیس نے کوئی رپورٹ نہیں دی۔ وزارت ِ خارجہ کے نئے قواعد کے مطابق جو جون میں لاگو ہوئے‘ پولیس رپورٹ اب صرف 6 نکات پر آتی ہے جو مجرمانہ پس منظر اور شہریت سے متعلق ہوتے ہیں۔ پولیس ویریفکیشن کا عمل آسان بنانے کی کوشش میں وزارت ِ خارجہ نے درخواست گذارسے پوچھے جانے والے سوالات 9 سے گھٹاکر 6کردیئے اور اس میں اصل توجہ مجرمانہ پس منظر پر دی جاتی ہے ۔ پاسپورٹ تنازعہ میں وزیر خارجہ سشما سوراج کی ٹرولنگ(سوشیل میڈیا پر برا بھلا کہنا) کے درمیان دہلی اور اترپردیش کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وزارت ِ خارجہ نے رول بک کے مطابق کام کیا ہے اور تنوی سیٹھ کو پاسپورٹ جاری کرنے میں کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے۔ پاسپورٹ درخواست کے لئے میریج سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ پاسپورٹ عہدیدار وکاس مشرا کو درخواست گذار سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ وہ اپنے میریج سرٹیفکیٹ یا نکاح نامہ کی توثیق یا تردید کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مشرا نے بعض کاغذات کے بارے میں پوچھ کر غلطی کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس جانچ 2لحاظ سے لازمی ہے ۔ ایک یہ کہ درخواست گذار ہندوستانی شہری ہے یا نہیں اور اس کا کوئی مجرمانہ پس منظر نہ ہو۔ پولیس جانچ کا ‘ پتہ یا شادی کے موقف سے کوئی لینا دینا نہیں۔ وزارت ِ خارجہ کو غلط نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ سوشیل میڈیا پر وزیر خارجہ سشما سوراج نشانہ تنقید بنی تھیں۔

جواب چھوڑیں