دھان کی اقل ترین امدادی قیمت میں ریکارڈ اضافہ

حکومت نے آج دھان کے لئے اقل ترین امدادی قیمت(ایم ایس پی) میں 200 روپے فی کنٹل کا ریکارڈ اضافہ کردیا جس سے سرکاری خزانہ پر زائداز 15 ہزار کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔ اس اقدام سے حکومت کو کسانوں کو ان کی پیداواری لاگت سے 50 فیصد زائد ادا کرنے کا اپنا انتخابی وعدہ پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینی کمیٹی برائے معاشی امور(سی سی ای اے) کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ عام انتخابات کو اب ایک سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ یوپی اے دوم کے دور میں 2012-13میں دھان کی ایم ایس پی میں پچھلا زائد اضافہ 170 روپے فی کنٹل ہوا تھا۔ این ڈی اے حکومت نے گذشتہ 4 برس میں دھان کی اقل ترین امدادی قیمت 50 تا 80 روپے فی کنٹل بڑھادی۔ بی جے پی نے 2014میں کسانوںسے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں ان کی پیداواری لاگت کا دیڑھ گنا ادا کرے گی۔ سی سی ای اے اجلاس کی بریفنگ دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ کابینہ نے 2018-19 کے سیزن کے لئے 14 خریف (گرما میں بوئی) فصلوں کے لئے اقل ترین امدادی قیمت کو منظوری دی ہے۔ سی اے سی پی نے جو فصل کی قیمت کے تعلق سے حکومت کو مشورہ دینے والی تنظیم ہے‘ دھان کی لاگت کا حساب 1166 روپے فی کنٹل لگایا اور حکومت نے دھان کی ایم ایس پی 200 روپے بڑھادی۔ اس طرح 2018-19 کے سیزن کے لئے 1750 روپے فی کنٹل کی قیمت ِ خرید طے ہوئی ہے۔ اے گریڈدھان کی ایم ایس پی 180 روپے فی کنٹل بڑھاکر 1770 روپے کردی گئی ۔ دھان کی ایم ایس پی اس کی پیداواری لاگت سے 50-51 فیصد بڑھی ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس سے کسانوں کو مثبت پیام جائے گا اور ان کا اعتماد بڑھے گا۔ زرعی شعبہ میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہوگی۔ انہوں نے اسے تاریخی فیصلہ قراردیا اور کہا کہ ایم ایس پی میں بھاری اضافہ کا فیصلہ کافی غورو فکر کے بعد کیا گیا۔ یہ عجلت میں کیا گیا فیصلہ نہیں ہے۔ اقل ترین امدادی قیمت بڑھانے سے سرکاری خزانہ پر زائداز 15ہزار کروڑ کا بوجھ پڑے گا لیکن اس سے کسانوں کی آمدنی اور قوت ِ خرید بڑھے گی جس کا وسیع تر معاشی سرگرمیوں پر اثر پڑے گا۔ یہ پوچھنے پر کہ ایم ایس پی میں اضافہ سے مہنگائی بڑھے گی ‘ راج ناتھ سنگھ نے جواب دیا کہ ہمیں مہنگائی کی فکر ہے۔ یہ کہنا صحیح نہیں کہ مہنگائی بڑھے گی‘ ہم نے گذشتہ 4 برس میں مہنگائی کو کنٹرول کیا ہے اور مستقبل میں بھی اسے کنٹرول کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ حکومت کے بموجب کپاس (میڈیم) کی ایم ایس پی 4020 سے بڑھاکر 5150 اور کپاس(لانبی) کی ایم ایس پی 4320 روپے فی کنٹل سے بڑھاکر 5450 روپے کردی گئی۔ دَلہن (دالوں ) کے معاملہ میں تور کی دال کی ایم ایس پی 5450 روپے فی کنٹل سے بڑھاکر 5675 روپے ‘ مونگ کی ایم ایس پی 5575 سے بڑھاکر 6975 روپے اوراُڑد کی ایم ایس پی 5400 روپے فی کنٹل سے بڑھاکر 5600 روپے کردی گئی۔ تَلہن (تیل کی بیجوں) میں سویابین کی ایم ایس پی 3050 سے بڑھاکر 3999 روپے فی کنٹل ‘ مونگ پھلی کی ایم ایس پی 4450 روپے سے بڑھاکر 4890 روپے اور سن فلاور کی ایم ایس پی 4100 روپے فی کنٹل سے بڑھاکر 5388 روپے کردی گئی۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ کسان سب سے بڑے پیداواری اور صارف ہیں۔ آزادی کے بعد کسانوں کو ان کی فصل کے صحیح دام نہیں ملے۔ آئی اے این ایس کے بموجب کسانوں کو ان کی پیداواری لاگت سے 50 فیصد نفع ملے گا۔

جواب چھوڑیں