دینی مدارس کے طلبا کیلئے یونیفارم کا منصوبہ نہیں: حکومت یوپی

دینی مدارس میں ڈریس کوڈ / یونیفارم مسئلہ پر حکومت اترپردیش پیچھے ہٹ چکی ہے۔ علماء نے یونیفارم کی مخالفت کی ہے اور اسے مسلم فرقہ کے مذہبی جذبات کے معاملہ میں راست مداخلت قراردیا ہے۔ یوپی کے مملکتی وزیر اقلیتی امور و حج ‘ محسن رضا نے منگل کے دن اعلان کیا تھا کہ مدرسہ بورڈ میں این سی آر ٹی کی کتابیں متعارف کرانے کے بعد اب طلبا کا روایتی کرتا پائجامہ کا یونیفارم تبدیل کردیا جائے گا لیکن بعدازاں ان کے سینئر وزیر چودھری لکشمی نارائن نے تردید کی کہ حکومت ایسی کوئی کوشش نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مملکتی وزیر کی زبان پھسل گئی ہوگی۔ انہوں نے اپنے جونیر کا دفاع کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ دارالعلوم فرنگی محل نے دینی مدارس پر یونیفارم تھوپنے کی محسن رضا کی کوشش کی مخالفت کی۔ مولانا محمد ہارون نے چہارشنبہ کے دن کہا کہ مدرسوں کے لئے کیا اچھا ہے یہ ہم پر چھوڑدینا چاہئے۔ مسلمانوں کے بہ مشکل 1-2 فیصد بچے مدرسوں میں پڑھتے ہیں۔ حکومت کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک اور عالم سفیان نظامی نے دینی مدارس کے طلبا کے لئے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے یونیفارم منصوبہ کی مخالفت کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ روایتی لباس بدلنے کی کیا ضرورت آن پڑی ہے۔ تمام مدارس اور کالجوں کا ڈریس کوڈ حکومت طے نہیں کرتی۔ ادارہ کی انتظامی کمیٹی اسے طے کرتی ہے لہٰذا دینی مدارس سے یہ بھیدبھاؤ کیوں؟۔

جواب چھوڑیں