ذاکر نائک کی ہندوستان کو حوالگی کی سرکاری توثیق نہیں ہوئی:وزارت خارجہ

متنازعہ اسلامی مبلغ ذاکر نائک نے‘ جو ہندوستان میں مختلف مقدمات میں گرفتاری سے بچنے کیلئے بیرون ملک مقیم ہیں‘ ملک کو اُن کی واپسی کی اطلاعات کو آج بے بنیاد قراردیا اور کہاکہ وہ جب تک یہ محسوس نہ کریں کہ وہ ’’غیر منصفانہ مقدمات سے محفوظ ہیں‘‘ ہندوستان واپس نہیں ہوں گے۔ اُن کے ترجمان نے یہاں اُن کا بیان جاری کیا۔ قبل ازیں آج یہ اطلاعات ملی تھیں کہ انہیں ملایشیا سے ہندوستان کے حوالے کیاجارہا ہے تاہم نئی دہلی میں وزارت امورخارجہ کے ذرائع نے بتایاکہ ذاکر نائک کی حوالگی سے متعلق ملایشیائی حکام سے ابھی کوئی سرکاری توثیق وصول نہیں ہوئی۔ گذشتہ جنوری میں وزارت خارجہ ہند نے ملایشیاء سے ایک رسمی درخواست کی تھی کہ ذاکر نائک کو حوالے کردیا جائے۔ ذاکر نائک‘ اپنی نفرت آمیز تقاریر کے ذریعہ نوجوانوں کو مبینہ طورپر دہشت پسندانہ سرگرمیوں کیلئے اُکسانے پر ہندوستان کو مطلوب ہیں۔ ذاکر نائک نے ایک بیان میں کہاکہ ’’ ہندوستان کو میرے آنے کی خبر کلیتاً بے بنیاد اور جھوٹ ہے‘‘ جب تک میں غیر منصفانہ مقدمات سے خود کو محفوظ محسوس نہ کروں‘ ہندوستان کو آنے کا میرا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ نائک نے مزید کہاکہ وہ ’’ یقینا اپنے وطن کو اُس وقت واپس ہوں گے جب وہ یہ محسوس کریں گے کہ حکومت منصفانہ اور روادار ہوگی‘‘۔ ذاکر نائک کو ہندوستان میں مختلف مقدمات بشمول اخفائے دولت مقدمہ کا سامنا ہے۔ این آئی اے نے 51سالہ ذاکر نائک کے خلاف پہلی مرتبہ2016ء میں مبینہ طور پر مختلف مذہبی گروپس کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کے لیے انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کیس درج کیا تھا۔ اس کے بعد این آئی اے اور ممبئی پولیس ممبئی میں ان کے 10مقامات پر دھاوے کیے جن میں نائیک کے فائونڈیشن کے عہدیداروں کے کچھ مکانات بھی شامل تھے۔ فائونڈیشن پر وزارت داخلہ نے بیرونی ملکوں سے رقومات وصول کرنے پر تحدید عائد کردی ہے۔

جواب چھوڑیں