سری نگر میں طوفانِ بادوباراں 100 سال قدیم درخت گرپڑے

جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت میں موسلا دھار بارش کے بعد تیز ہواؤں کے سبب چھ ایک صدی قدیم چنار کے درختوں کے بشمول کئی درخت جڑ پیڑ سے اکھڑ گئے ، تاہم ان واقعات میں جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ، حالانکہ درختوں کے گرنے سے کئی مکانوں اور دیگر ڈھانچوں کے علاوہ بعض گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ عہدیداروں نے بتایا مشہور شالیمار گارڈن میں کل شام تیز ہواؤں کے سبب 6 چنار کے درخت جو ایک صدی قدیم تھے جڑ سے اکھڑ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت شالیمار گارڈن میں چند سیاح موجود تھے ، جنہیں پولیس اورمقامی افراد نے بچا لیا ۔ خوش قسمتی سے اس واقعہ میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شالیمار گارڈن کو ہروان گارڈن سے مربوط کرنے والی سڑک پر گرے چنار کے درخت ہٹاکر سڑک پر آمد و رفت بحال کردی گئی ۔ درایں اثنا کشمیر یونیورسٹی کیمپس میں درختوں کے شاخوں کے گرنے سے چند گاڑیوں کو نقصان پہنچا ۔ سرینگر کے شہر خاص اور دیگر مقامات پر بھی درختوں کے گرنے کی اطلاعات دستیاب ہوئیں ۔ وادی کے دیگر حصوں سے بھی ایسی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اسی دوران مزاحمتی قیادت نے برہان وانی کی دوسری برسی کے موقع پر جموں و کشمیر میں 8 جولائی کو بند منانے کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قصبہ ترال میں برہان وانی کے مقبرہ پر عوامی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں