شام کی صورت حال پر غور کیلئے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب

شام کے جنوب مغربی علاقوں میں بشار الاسد کی فوج کی جانب سے اپوزیشن کے خلاف جاری وحشیانہ کارروائی کی روک تھام کے لیے جمعرات کو سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔سلامتی کونسل کا اجلاس ایک ایسے وقت میں بلایا گیا ہے جب روس کی معاونت سے اسدی فوج درعا اور دوسرے علاقوں میں اپوزیشن کے خلاف تباہ کن حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ ایام میں جاری آپریشن کے نتیجہ میں 3 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ذرائع کے مطابق سلامتی کونسل کا اجلاس جولائی میں کونسل کے میزبان سویڈن ملک اور کویت کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں سویڈن کے ہائی کمشنر نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ جنوب مغربی شام میں تازہ لڑائی کے دوران دو لاکھ 70 ہزار سے 3 لاکھ 30 ہزار تک شہری نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ادھر امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ھیذر ناورٹ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے جنوبی شام میں جنگ بندی کے حوالے سے اپنے روسی ہم منصب سیرگی لافروف سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم جنوبی شام کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور مسلسل لڑائی کے خطرات سے خبردار بھی کررہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ناورٹ نے کہا کہ مسلسل فضائی حملوں کے باعث جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی آپریشن بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کل روس کے وزیر خارجہ سرجئی لاؤروف کے ساتھ فون پر جنوبی شام میں جنگ بندی پر بات چیت کی۔امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوراٹ نے صحافیوں سے کہا’’وہاں کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہم کافی فکر مند ہیں۔ وہاں مسلسل فضائی حملے ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی امداد بھی روک دی گئی ہیں، جسے بحال کیا جا رہا ہے۔ لیکن یقینی طور پر یہ ایک محفوظ صورت حال نہیں ہے‘‘۔

جواب چھوڑیں