عاپ، دہلی کیلئے مکمل ریاست کے درجہ کا مطالبہ ترک کردے

دہلی بی جے پی نے لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر اور عام آدمی پارٹی حکومت کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا کہ اب حکمراں جماعت شہر کے لیے مکمل ریاست کے درجہ کا اپنا ’’سیاسی مطالبہ‘‘ ترک کردینا چاہیے۔ بی جے پی رکن اسمبلی اور دہلی اسمبلی میں قائد ِ اپوزیشن وجیندر گپتا نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آج اپنے فیصلہ میں عام آدمی پارٹی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرے اور توقع ہے کہ وہ ایسا کریںگے۔ پارٹی نے کہا کہ مجلس وزراء (کابینہ) کے تمام فیصلوں سے لیفٹیننٹ گورنر کو واقف کرایا جانا چاہیے ، لیکن ضروری نہیں ہے کہ وہ اس سے اتفاق کریں ۔ ہم ، سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ عدالت کے احکام کے بغیر بھی دہلی حکومت کو قانون پر عمل کرنا چاہیے تھا۔ ہمیں امید ہے کہ عدالت کے فیصلہ کے بعد وہ ایسا کریںگے۔ دہلی بی جے پی کے ترجمان پروین شنکر کپور نے کہا کہ عدالت کے احکام سے یہ فیصلہ ہوگیا ہے کہ دہلی مرکزی زیر انتظام علاقہ ہے اور عام آدمی پارٹی کو شہر کے لیے مکمل ریاست کے درجہ کا اپنا ’’سیاسی مطالبہ‘‘ اٹھانا بند کردینا چاہیے۔ کپور نے کہا کہ فیصلہ میں ہدایت دی گئی ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر اور شہری کابینہ آپس میں زیادہ تعاون کریں اور تمام فریقین اس فیصلہ کا احترام کریں۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ عام آدمی پارٹی حکومت کی بڑی کامیابی ہے ، جو لیفٹیننٹ گورنر انیل بائیجل اور ان کے پیشرو نجیب جنگ کے ساتھ عاملہ اختیارات کے مسئلہ پر مسلسل محاذ آرا تھی۔ اسی دوران موصولہ یو این آئی کی اطلاع کے بموجب دہلی کی سابق چیف منسٹر اور کانگریس کی سینئرقائد شیلا دکشت نے دہلی حکومت اور لفٹننٹ گورنر کے اختیارات کے معاملے میں سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے چیف منسٹر اروند کجریوال کو مشورہ دیا کہ وہ مرکز کے ساتھ تال میل کرکے عوامی مفاد کے کاموں پر زیادہ توجہ دیں۔پندرہ سال تک دہلی کی چیف منسٹر رہیں شیلا دکشت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا’’ میرا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ نے صورت حال واضح کردی ہے۔ آئین کی دفعہ 239(اے اے) کے مطابق دہلی مکمل ریاست نہیں ہے اور دیگر ریاستوں کے مقابلے میں یہاں کافی فرق ہے۔ دہلی مرکز کے زیر انتظام صوبہ ہے۔اگر یہاں دہلی کے چیف منسٹر اور لفٹننٹ گورنر مل کر کام نہیں کریں گے تو اس طرح کی پریشانیاں آئیں گی۔ کانگریس نے دہلی میں پندرہ سال حکومت کی لیکن کبھی ٹکراو کی صورت نہیں پیدا ہوئی۔سابق چیف منسٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت اور لفٹننٹ گورنر کے اختیارات پر کسی کی جیت یا کسی ہار نہیں ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کو کجریوال کی طرف سے کامیابی بتائے جانے پر دکشت نے کہا کہ یہ عام آدمی پارٹی کی کامیابی اسی وقت سمجھی جاتی جب زمین اور قانون و انتظام کا بھی اختیار اسے مل جاتا۔عدالت نے ایسا کوئی اختیار نہیں دیا ہے۔ لڑ کر کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ باہمی تعاون سے سب کچھ حاصل ہوسکتا ہے اور تال میل سے ہی کام کرنا پڑتا ہے۔ چینائی سے موصولہ اطلاع کے بموجب ٹاملناڈو میں اپوزیشن جماعت ڈی ایم کے نے آج سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا کہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کو منتخبہ عام آدمی پارٹی حکومت کی تجاویز کے مطابق کام کرنا چاہیے اور کہا کہ ٹاملناڈو کے گورنر بنواری لال پروہت کو بھی اسے سمجھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے متفقہ طور پر کہا کہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر عوام کی منتخبہ اروند کجریوال کی زیرقیادت عام آدمی پارٹی حکومت کی مدد اور مشورہ سے کام کرنے کے پابند ہیں اور ان دونوں کو مل جل کام کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ کے متفقہ فیصلہ پر ردّ ِ عمل ظاہر کرتے ہوئے ڈی ایم کے کارگذار صدر ایم کے اسٹالن نے ٹوئٹر پر کہا کہ ان احکام کا اطلاق نہ صرف دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر پر ہوگا ، بلکہ مکمل اختیارات کے حامل ریاستی گورنرس پر بھی ہوگا۔ ریاستی گورنرس ، بالخصوص گورنر ٹاملناڈو کو جو مکمل اختیارات کے حامل ہیں ، اسے سمجھنا اور اس کے مطابق کام کرنا چاہیے ۔

جواب چھوڑیں