مہاجرین اور جلا وطن لوگوں کی باز آباد کاری کیلئے جامع اسکیمات

وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ نے جامع اسکیم ”مہاجرین اور جلا وطن لوگوں کی راحت اور باز آباد کاری ” کے تحت مہاجرین اور جلاوطن لوگوں کی راحت اور باز آباد کاری کے لئے وزارت داخلہ کی موجودہ 8 اسکیموں کو مارچ 2020 تک جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے ۔اس مقصد کے لئے مالی لاگت 18۔2017 سے 20۔2019 کی مدت تک کے لئے 3183 کروڑ ہے ۔ سال کے اعتبار سے یہ مرحلے وار اسکیم 18۔2017 میں 911 کروڑ، 19۔2018 میں 1372 کروڑ اور 20۔2019 میں 900 کروڑ کی ہوگی۔ان اسکیموں سے پناہ گزینوں، بے گھر لوگوں، دہشت گردی، فرقہ وارانہ، ایل ڈبلیو ای تشدد اور سرحد پار فائرنگ اور بھارتی خطے میں کانوں(mines) اور آئی ای ڈی دھماکوں کے شہری متاثرین اور متعدد واقعات کے فساد زدگان کو راحت اور باز آباد کاری امداد ملے گی۔وہ آٹھ اسکیمیں جنہیں جاری رکھنے کے لئے منظوری دی گئی ہے ، وہ پہلے ہی سے جاری ہیں اور ہر ایک اسکیم کے تحت فوائد منظور شدہ معیار کے مطابق مطلوب مستفیدین کو پہنچائے جائیں گے ۔بے گھر ہونے کی وجہ سے جن مہاجرین اور جلا وطن لوگوں کو مشقت کا سامنا کرنا پڑا، ان لوگوں کے لئے یہ اسکیمیں ہیں تاکہ وہ معقول آمدنی حاصل کرسکیں اور اصل دھارے کی معاشی سرگرمیوں میں اپنی شمولیت کا راستہ ہموار کرسکیں۔ ان کو دھیان میں رکھتے ہوئے حکومت نے مختلف اوقات میں یہ آٹھ اسکیمیں شروع کی ہیں ۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی کابینہ نے ڈی این اے ٹیکنالوجی (استعمال اور عمل) ریگولیشن بل، 2018 کو اپنی منظوری دے دی ہے۔ڈی این اے پر مبنی تکنیک (استعمال اورریگولیشن)بل 2018 پر عمل آوری کا بنیادی مقصد ڈی این اے پر مبنی فورینسک ٹیکنالوجیز کی توسیع کو ، جس کا مقصد ملک کے انصاف کی فراہمی نظام کو مستحکم کرنا ہے، اپنی منظوری دے دی ہے۔ڈی این اے پر مبنی ٹیکنالوجیوں کی افادیت جرائم کے معاملات کو سلجھانے اور گمشدہ افراد کی شناخت کیلئے دنیا بھر میں تسلیم کی جاتی ہے۔ملک میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ، اس بل کے مجوزہ وسیع تر استعمال کا مقصد ڈی این اے لیباریٹریوں کے الحاق اور ریگولیشن کو لازمی قرار دیئے جانے کے علاوہ ڈی این اے ٹسٹ کے بھروسے مند نتائج حاصل کرنا اور ہمارے شہریوں کے کی رازداری کو محفوظ یا ان کے غلط استعمال ہونے سے بچانے کو یقینی بنانا ہے۔ مودی کی سربراہی میں مرکزی کابینہ نے علاقائی دیہی بینکوں (آر آر بی) کی نو سرمایہ کاری اسکیم کو آئندہ تین برسوں یعنی 20-2019 تک توسیع دے دی ہے۔ اس اقدام سے آر آر بی کو سرمائے کے رِسک (خطرے) کے اثاثہ توازن تناسب (سی آر اے آر) کو کم ازکم 9 فیصد تک برقرار رکھنے کی اہلیت حاصل ہو سکے گی۔ خواتین اور بہبود اطفال کے سکریٹری کی زیر صدارت آج منعقد ہ ایک میٹنگ میں مربوط نوڈل ایجنسی (آئی این اے ) نے ایک مزید لک آؤٹ سرکولر (ایل او سی) جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔وزارت نے این آرآئی ازدواجی تنازعات کے سلسلے میں موصول شکایتوں کی جانچ کے بعد پہلے ہی اس سال اپریل سے چھ ایل او سی جاری کئے ہیں۔آئی این اے ، این آر آئی ازدواجی تنازعات سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کے لئے مستقل طور پر میٹنگ کرتی ہے ۔ این آر آئی سے جڑے فوجداری معاملات میں آئی این اے قابل دست اندازی پولیس جرائم میں ایک ایسی صورتحال میں ایل او سی جاری کرسکتی ہے جبکہ سمندر پار شوہر غیر ضمانتی وارنٹ جاری ہونے کے باوجود جان بوجھ کر گرفتاری سے بچ رہا ہو یا پھر تحت کی عدالت میں حاضر نہیں ہورہا ہویا پھر یہ امکان ہو کہ وہ مقدمہ یا گرفتاری سے بچنے کے لئے ملک چھوڑ دے گا۔ این سی ڈبلیو کے ذریعہ معاملے کی جانچ کے بعد ایل او سی جاری کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں