ورنگل میں پٹاخہ ساز فیاکٹری میں دھماکہ‘11افرادہلاک

ورنگل کے نواح میں کوٹی لنگالہ کے قریب واقع پٹاخہ ساز ( فائر ورکس) ایک فیاکٹری میں زبردست دھماکہ کے بعد مہیب آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجہ میں11‘افراد زندہ جل گئے جبکہ3 افراد جھلس گئے۔ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ بھدراکالی پٹاخہ سازفیاکٹری کے گودام میںجہاں دھماکہ کے بعد آگ بھڑک اٹھی ہے ‘ مزید مزدورپھنسے رہنے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق گودام میں25 کے قریب مزدورکام کررہے تھے۔ ذرائع نے بتایاکہ مہلوکین کی تعداد میںاضافہ کا امکان ہے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھاکہ اس کی آواز5کلومیٹر دورتک سنائی دی اوردیکھتے ہی دیکھتے گودام سے آگ کے شعلے بلند ہونے لگے۔ دھماکہ کی آواز سے فیاکٹری کے گودام کے قرب و جوار کے افراد خوف زدہ ہوگئے ۔ دھماکہ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایاجارہاہے کہ گودام کے نواح میں موجود مکانات کونقصان پہونچا۔ چار فائر انجنوں کو فوری مقام واقعہ طلب کیاگیا جہاں آتش فرو عملہ نے بڑی مشقت کے بعد اس آگ پر قابوپالیا۔ ضلع کلکٹر ورنگل رورل ہریتانے بچاؤ اورراحت کاری کاموں کی نگرانی کی۔ نمائندہ’منصف‘ کے بموجب این ٹی آر نگرکے قریب بھدرا کالی پٹاخہ ساز فیاکٹری میں11 بجے دن زبردست دھماکہ ہوا۔ دھماکہ کے وقت گودام میں بتایاگیاکہ بھاری تعداد میں بارود موجودتھا اوراس وقت اندر 15مزدورکام کررہے تھے۔ دھماکہ کے بعد آگ کے شعلے بلند ہونے لگے اس آگ کی لپیٹ میں چار اور دوپہیوں کی گاڑیاں بھی آگئیں ۔ کئی گاڑیاں جل گئیں۔ بتایاجاتاہے کہ11مزدور جل کر ہلاک ہوگئے۔ جن میں دو بچوں سمیت خواتین بھی شامل ہیں۔ دھماکہ سے نعشوں کے پرخچے اڑ گئے اورنعشیں ناقابل شناخت ہوگئیں۔ دھماکہ کی شدت سے این ٹی آر نگر کے قریب کی جھونپڑیوں کی چھتیں اڑگئیں ۔ پولیس کمشنر‘ ضلع کلکٹر اور رکن اسمبلی اوردیگر فوری مقام دھماکہ پر پہونچے اور راحت اوربچاؤ کے کام کو شروع کیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری مقام پر پہونچے اوربڑی تعداد میں ہلاکتوںپر گہرے دکھ کا اظہارکیا۔ انہوںنے کہاکہ دھماکہ کی تحقیقات کا حکم دے دیاگیاہے۔ پٹاخہ ساز فیاکٹری کا مالک کمار بتایاگیاہے جومفرور ہے۔ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے کہاکہ انکوائری ٹیم اس بات کی بھی تحقیقات کرے گی کہ فیاکٹری کے مالک نے لائیسنس حاصل کیا تھا یا نہیں ۔ یہ ٹیم ‘ ہرزاویہ سے تحقیقات کرے گی۔ انہوںنے کہاکہ کسی کو ذمہ دار قراردینا جلد بازی ہوگی۔ حکومت ‘سرکاری عہدیداروں کی خامیوںکو بھی نہیں بخشے گی ۔ تاہم انکوائری رپورٹ ملنے کے بعد ہی حکومت‘کاروائی سے متعلق فیصلہ کرے گی۔’آئی اے این ایس‘ کے بموجب ضلع ورنگل رورل میں پٹاخہ ساز فیاکٹری وگودام میں دھماکہ کے بعد زبردست آگ بھڑکنے کے نتیجہ میں 11‘ افراد ہلاک ہوگئے۔ بھدراکالی پٹاخہ ساز فیاکٹری کے کوٹی لنگالہ یونٹ میں چہارشنبہ کے روز پیش آئے اس دھماکہ میں5افراد شدید زخمی ہوگئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے مقام واقعہ پر میڈیاکے نمائندوںکوبات چیت کرتے ہوئے کہاکہ سلسلہ وار دھماکوں کے بعد گودام منہدم ہوگیا‘ ان دھماکوںکی وجہ سے قریبی مکانات کو بھی نقصان پہونچا جبکہ نعشیں جھلس گئیں اوریہ ناقابل شناخت ہوگئیں۔ دھماکوںکی آواز سے قرب و جوار میں مقیم افراد خوف زدہ ہوگئے اورخوف کے عالم میں یہاں سے بھاگنے لگے۔ ضلع کلکٹر ایم ہریتانے بتایاکہ ہم یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ دھماکہ کے وقت گودام میںکتنے مزدورتھے۔ اس علاقہ کے عوام کا کہنا ہے کہ اس فیاکٹری میں 25تا30 افراد کام کیاکرتے تھے اوردھماکہ کے وقت ‘ کم از کم15 تا20افراد یونٹ کے اندرکام کررہے تھے۔ دھماکہ اورمہیب آتشزدگی کے سبب کا ہنوز علم نہیں ہوسکا۔ کلکٹر نے بتایاکہ ریوینیو حکام اس واقعہ کی تحقیقات کریںگے۔’این ایس ایس‘ کے بموجب10مہلوکین کی شناخت ونود، رادھیکا، یلماں،اشوک ، رگھوپتی ، کنکا راج ، شراونی ، سری وانی ، منیماں اورہری کرشنا کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ زخمیوںاورنعشوں کوایم جی ایم ہاسپٹل منتقل کردیاگیاہے۔ اس گاؤں میں مقام واقعہ کے اطراف خون ہی خون دکھائی دے رہاہے۔ آگ کے بلندشعلوں سے8 مزدور کرشماتی طورپربچ نکلنے میںکامیاب رہے۔ دھماکہ کی شدت سے گودام کی چھت اڑگئی اورڈھانچہ زمین دوزہوگیا۔ اس فیاکٹری کے قریب کھڑی ایک کار اوردیگردوپہیوں والی گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آکرجل گئیں اورایک ایس یووی گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے اوراس کو شدید نقصان پہونچا۔ عینی شاہدین نے بتایاکہ پٹاخہ سازگودام کے قریب واقع پکوان گیس سلنڈرس کے گودام کواگر آگ اپنی لپیٹ میں لے لیتی تو مزید تباہی ہوتی۔ دھماکہ کی شدت سے قریب میں واقع ایک مکان کی اسبسطاس کی چھت منہدم ہوگئی اوراسبسطاس کی ایک شیٹ لگنے سے ایک خاتون کو شدید چوٹیں آئیں۔ جس کوہاسپٹل میں شریک کردیاگیا۔ پولیس مصروف تحقیقات ہے۔

جواب چھوڑیں