امریکہ کے امکانی حملہ کیخلاف وینزولہ کی فوج کو تیار رہنے کاحکم :صدر نکولس مادورو

جنوبی امریکی ملک وینزویلا کے صدر نے اپنے ملک کی فوج کو ہمہ وقت چوکس رہنے کا حکم جاری کیا ہے۔ فوج کو چوکس رہنے کی تاکید کی وجہ وہ مبینہ رپورٹ ہے، جس کے مطابق امریکی صدر اس ملک پر فوج کشی کی سوچ رکھتے تھے۔ صدر نکولس مادورو نے اپنی فوج کے سربراہ کو حکم دیا ہے کہ اْن کی فوج کو ہر وقت الرٹ رہنا چاہیے۔ مادْورو نے یہ بھی کہا کہ اس وقت اْن کی سرزمین کو شدید خطرات کا سامنا ہے اور ملک کا ہر ممکن طریقے سے دفاع کرنے کے لیے فوج کا الرٹ رہنا ازحد ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اْن کا ملک امن کا حامی ہے لیکن اْنہیں ملکی تاریخ کے سنگین ترین خطرے کا سامنا ہے۔مادورو نے اپنی ملکی فوج کو چوکس رہنے کا حکم اْس مبینہ رپورٹ کے تناظر میں دیا ہے، جس کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ وینزویلا پر فوج کشی کا ارادہ رکھتے تھے۔ مادورو کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی فوج کشی وینزویلا کے تمام مسائل کا حل نہیں ہو سکتی۔امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے عسکری مشیران سے چند ماہ قبل دریافت کیا تھا کہ امریکہ وینزویلا میں فوج کشی کیوں نہیں کر سکتا۔ اس موقع پر سابق وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور سابق قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر نے ان کے ساتھ اتفاق نہیں کیا اور اس کارروائی کے امریکا پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اشارہ دیا تھا۔ ان دونوں اعلیٰ سطحی عہدیداروں کو ٹرمپ نے اْن کے منصبوں سے کچھ عرصہ قبل فارغ کر دیا تھا۔اے پی کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ لاطینی امریکہ کے 4 ملکوں کے سربراہان نے بھی وینزویلا کے اندرونی حالات کے تناظر میں امریکی صدر سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں ٹرمپ نے فوج کشی کے ممکنہ ارادے کا اظہار کیا تھا لیکن تمام مہمان صْدور نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کے مندرجات پر کسی بھی قسم کا ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔امریکی صدر نے گزشتہ برس اگست میں ایسا اشارہ دیا تھا کہ وہ وینزویلا کے حوالے سے کچھ نہ کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اسی بیان میں فوجی ایکشن کو بھی خارج از امکان نہیں قرار دیا تھا۔ ٹرمپ کے خیالات کے سامنے آنے پر وینزویلا کے صدر نے عالمی برادری کی توجہ امریکی صدر کے بیان کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے پوپ فرانسس سے بھی اس تناظر میں اپیل کی تھی کہ وہ امریکی صدر کو فوج کشی سے گریز کرنے پر قائل کریں۔

جواب چھوڑیں