بی جے پی اور ایس بی ایس پی کے درمیان اختلافات میں اضافہ

 اترپردیش کے کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر کی زیرقیادت سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) اور بی جے پی کے درمیان تنازعہ میں اضافہ ہوگیا ہے اور ریاستی وزیر نے اعلان کیا ہے کہ وہ بی جے پی سے ٹکر لیں گے۔ ایس بی ایس پی نے یوپی بی جے پی کے صدر ڈاکٹر مہندر ناتھ پانڈے کے خلاف چندولی لوک سبھا حلقہ سے سنیل پٹیل نامی امیدوارکو میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر پانڈے ‘ چندولی سے بی جے پی کے رکن ہیں اور حال ہی میں ایس بی ایس پی اور ان کے درمیان برسرعام جھگڑا ہوا تھا۔ اوم پرکاش راج بھر نے کل شام ریاستی دارالحکومت میں پارٹی کارکنوں کے اجلاس میں یہ اعلان کیا کہ اب بی جے پی کے ساتھ راست مقابلہ ہوگا اور وہ انتہائی پسماندہ طبقات کے لئے تحفظات میں کوٹہ اور پسماندہ طبقات و راج بھر برادری کے احترام سے متعلق دیگر معاملا ت میں اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گے۔ واضح رہے کہ ایس بی ایس پی پسماندہ طبقات کے لئے 27 فیصد تحفظات میں انتہائی پسماندہ طبقات کے لئے کوٹہ کا مطالبہ کررہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کو چیلنج کیا ہے کہ وہ انہیں ریاستی کابینہ سے نکال کر دکھائے۔ انہوں نے آج یہاں کہا کہ پارٹی ‘ ریاست کی تمام 80لوک سبھا نشستوں پر تیاری کررہی ہے۔ اگر بی جے پی ہمارے مطالبات کے آگے نہ جھکے تو ہم اپنا فیصلہ کرنے آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 2017کے اسمبلی انتخابات کے دوران 4 اسمبلی نشستیں جیتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی ‘ اس کے امیدواروں کو ہماری تائید کے سبب 150 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ وہ کس طرح اس بات کو فراموش کرسکتے ہیں اور ہمارے ارکان اسمبلی و حامیوں کی توہین کرسکتے ہیں۔ راج بھر نے میٹنگ میں اپنے حامیوں کو مطلع کیا کہ وہ کسی مجبوری کے تحت اتحاد میں برقرار نہیں ہیں۔ انہو ںنے کہا ’’ہم جوتے بھی کھائیں اور جڑے بھی رہیں‘ ایسا نہیں ہوگا‘‘۔ ہر شخص اترپردیش میں حکمرانی کے معیا سے واقف ہے۔ ایس بی ایس پی کے 4 ارکان اسمبلی ہیں اور ان میں سے ایک راج بھر‘ یوگی حکومت میں کابینی درجہ کے وزیر ہیں۔ راج بھر نے کہا کہ 15ماہ کے انتظار کے باوجود بی جے پی حکومت نے لکھنو میں پارٹی آفس کے لئے جگہ فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ امبیڈکر پارک میں سہیل دیو کے مجسمہ کی تنصیب سے بھی انکار کردیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں