جنوب مغربی شام میں سرکاری فوج کی شدید بمباری

شامی فوج اوراس کے روسی حلیفوں نے رات میں جنوب مغربی ٹاون شام کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بمباری کی جس میں 15 گھنٹوں کے دوران 600 سے زائد فضائی حملے کئے گئے ۔ شامی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس جنگی نگرانکار ادارہ نے یہ بات بتائی ۔ بمباری میں کمی کے 4 دن بعد چہارشنبہ کو دوبارہ حملوں میں شدت پیدا ہوگئی ۔ قبل ازیں شورش پسند گروپ اور روسی عہدیداروں کے درمیان مذاکرات ختم ہوگئے تھے ۔ شامی صدر بشارالاسد اور ان کے حلیف جنوب مغربی علاقہ پر دوبارہ قبضہ کے لیے جنگ کررہے ہیں جو شام میں شمال مغربی ‘ترک سرحد کے علاقہ سے متصل آخری باغیوں کا مضِبوط گڑھ ہے ۔ ان کے دو ہفتے طویل حملہ میں روسی فضائی نے امداد فراہم کی اور اس کے قبضہ میں صوبائی دارالحکومت درعہ کے شمال مغربی علاقہ میں باغیوں کا ایک بڑا علاقہ بھی ہے جبکہ متعدد ٹاونس میں خود سپردگی اختیار کرلی ہے ۔ لڑائی اور فضائی حملوں ںسے قبل ازیں 3ملین شمال مغربی شام کے لوگ اپنے گھروں سے فرار ہوگئے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے آج یہ بات بتائی ۔ جبکہ وہ لوگ اردن اور اسرائیل کی سرحدات سے متصل پناہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ دونوں ممالک نے بتایا کہ وہ پناہ گزینوں کے لیے اپنی سرحدیں نہیں کھولیں گے ۔ اردن نے جنگ میں قبل ازیں 5 ملین سے زائد پناہ گزینوں کو قبول کیاتھا لیکن اس نے چند رسدات شام میں تقسیم کئے ۔ جنوب مغربی شام کا علاقہ جنگی خاتمہ کاعلاقہ ہے جس میں گذشتہ سال روس ‘اردن اور اقوام متحدہ نے اتفاق کیاتھا تاکہ تشدد میں کمی کی جاسکے ۔ سرکاری حملہ کی شروعات کے قریب واشنگٹن نے بتایا کہ وہ اس سمجھوتہ کے خلاف ورزیوں پر ردعمل کااظہار کرے گا لیکن تاحال اس نے ایسا نہیں کیاہے ۔ اور باغیوں نے بتایا کہ امریکہ نے انہیں بتایا ہے کہ وہ مزید امریکی فوجی امداد کی توقع کریں ۔

جواب چھوڑیں