حکومت دہلی کے اختیارات مرکز کے ماتحت۔سپریم کورٹ کے فیصلہ کو صحیح انداز میں سمجھنے کی ضرورت:ارون جیٹلی

مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے آج کہا کہ دہلی حکومت کا یہ گمان ’’بالکلیہ غلط‘‘ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے اسے مرکزی زیرانتظام علاقہ کیڈر کے عہدیداروں پر انتظامی اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے کل کے فیصلہ سے نہ تو ریاستی حکومت یا مرکزی حکومت کے اختیارات میں اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی ان میں کوئی کمی آئی ہے۔ انہوں نے دہلی حکومت کے کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بارے میں اپنے فیس بک بلاگ پر لکھا ’’یہ (فیصلہ) منتخبہ ریاستی حکومت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے لیکن چونکہ دہلی ایک مرکزی زیرانتظام علاقہ ہے لہٰذا اس کے اختیارات مرکزی حکومت کے ماتحت ہیں‘‘۔ کل کے تاریخی فیصلہ کے چند گھنٹوں بعد حکومت دہلی نے عہدیداروں کے تبادلوں اور تعیناتی کے لئے ایک نیا سسٹم متعارف کیا اور چیف منسٹر اروند کجریوال کو منظوری دینے والی اتھاریٹی بنایا گیا۔ بہرحال محکمہ خدمات نے اس کی تعمیل کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے 2016 میں جاری کردہ اعلامیہ کو منسوخ نہیں کیا ہے جس کے ذریعہ وزارت ِ داخلہ کو تبادلوں اور تعیناتی کی اتھاریٹی بنایا گیا تھا۔ جیٹلی نے کہا کہ کئی مسائل ہیں جن پر راست تبصرہ نہیں کیا گیا ہے لیکن ضمنی انداز میں ان کا اشارہ دیا گیا ہے۔ جب تک اہم مسائل اٹھائے نہیں جاتے‘ ان پر تبادلہ خیال نہیں کیا جاتا اور مخصوص رائے حاصل نہیں کی جاتی‘ کوئی بھی یہ فرض نہیں کرسکتا کہ خاموشی کسی ایک کے حق میں فیصلہ ہے۔ جیٹلی نے کہا کہ دو واضح اشارے ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر دہلی کے پاس پولیس کے اختیارات نہیں ہیں تو وہ جرائم کی تحقیقات کے لئے کوئی تحقیقاتی ایجنسی تشکیل نہیں دے سکتی جیسا کہ ماضی میں کیا گیا ہے‘ دوسرا یہ کہ سپریم کورٹ نے واضح طورپر کہا ہے کہ دہلی اپنا تقابل دیگر ریاستوں کے ساتھ نہیں کرسکتی لہٰذا یہ گمان کرلینا کہ مرکزی زیرانتظام علاقہ کی خدمات کیڈر کے انتظامیہ کا بھی دہلی حکومت کے حق میں فیصلہ کردیا گیا ہے‘ بالکلیہ غلط ہوگا۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیرصدارت 5 رکنی دستوری بنچ کے فیصلہ میں قومی دارالحکومت پر حکمرانی کے وسیع تر پیمانے مقرر کردیئے گئے ہیں جہاں 2014 میں عام آدمی پارٹی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے مرکز اور حکومت دہلی کے درمیان رسہ کشی دیکھی جارہی ہے۔ جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ دہلی ریاست نہیں لہٰذا یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ ریاستی حکومت کے اختیارات مرکزی زیرانتظام علاقہ کی منتخبہ حکومت کو بھی حاصل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ صراحت کردی ہے کہ یہ بالکل واضح ہے کہ یہ قطعی گمان نہیں کیا جاسکتا کہ دہلی کے این سی ٹی کو موجودہ دستوری اسکیم کے تحت ریاست کا موقف دیا جاسکتا ہے اور لیفٹیننٹ گورنر کا موقف ریاستی گورنر کے مماثل نہیں ہے بلکہ وہ محدود معنوں میں اڈمنسٹریٹر ہیں جو لیفٹیننٹ گورنر کے عہدہ کے ساتھ کام کررہے ہیں۔

جواب چھوڑیں