راجستھان کے ایک آشرم پر دھاوا‘ 67 لڑکیاں دستیاب ۔حالت ِ تنویم میں ہونے کا شبہ

راجستھان کے راج سمند میں ایک ہوٹل میں چلائے جارہے آشرم پر پولیس کے دھاوے کے دوران دستیاب 67 لڑکیوں کی کونسلنگ بے فیض ثابت ہوئی ہے کیونکہ وہ اپنے بارے میں کسی بھی سوال کا جواب دینے تیار نہیں ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ تنویمی عمل (ہپناٹزم ) کے زیراثر ہیں۔ کمیٹی برائے بہبودی ٔ اطفال کی ایک رکن بھاؤنا پلیوال نے کہا کہ چہارشنبہ کو ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں پائی گئیں اور انہیں بالیکا گڑھ بھیج دیا گیا۔ اب ہم ان لڑکیوں کی کونسلنگ کررہے ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پوری طرح ٹھیک نہیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ہپناٹزم کے زیراثر ہیں۔ وہ کسی بھی موضوع پر بات کرنا نہیں چاہتیں۔ وہ نہ تو کھانا مانگ رہی ہیں اور نہ ہی کچھ بتارہی ہیں۔ اس کے بجائے ہم پر چِلارہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے یہاں آئی تھیں۔ بھاؤنا نے مزید بتایا کہ اس آشرم کے رجسٹریشن دستاویزات بھی دستیاب نہیں ہیں اور یہ ایک ہوٹل کے ہال میں چلایا جارہا تھا۔ ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ اسے کون چلارہا تھا اور یہاں پائی جانے والی لڑکیوں کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہے۔ پلیوال نے کہا کہ بعض افراد لڑکیوں کے والدین ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ہم سے رجوع ہوئے ہیں لیکن وہ قابل بھروسہ نہیں ہیں اور شبہ ہے کہ آشرم کے مالک ہیں۔ فی الحال کمیٹی برائے بہبودی ٔ اطفال ‘ چائلڈ لائن اور بالیکا گڑھ ان لڑکیوں کی کونسلنگ کررہے ہیں جبکہ باہر پولیس کا سخت پہرہ ہے ۔ پلیوال نے کہا کہ دھولپور سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکی کے والد کے بیان سے مزید شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ کسی نے 3 سال پہلے ان کی لڑکی کو ہپناٹائز کیا تھا اور اس نے گھر چھوڑدیا تھا۔ اب اس کی عمر 14 سال ہے اور وہ گھر واپس ہونا نہیں چاہتی۔ انہیں(والد کو) بھی نہیں معلوم کہ یہ آشرم کون چلاتا ہے۔ پولیس ذرائع نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ اسے اطلاع دی گئی ہے کہ ان لڑکیوں کا تعلق ابو روڈ پر واقع پرجاپتی سنستھا سے ہے اور وہ روحانی تعلیم حاصل کرنے یہاں آئی ہیں۔ اس معاملہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ اسی دوران بھاؤنا پلیوال نے کہا کہ اگر لڑکیاں اتنے دن سے یہاں ہیں تو انہیں ہوٹل یا انتظامیہ کے پاس اپنا اتہ پتہ درج کرانے کی ضرورت تھی لیکن کوئی ریکارڈس دستیاب نہیں ہیں۔
آخر انہوں نے اپنی تعلیم کیوں ترک کی اور اس جگہ کیوں صرف روحانی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔

جواب چھوڑیں