سنٹرل بس اسٹیشن کا تاریخی آہنی شیڈ منہدم۔90سال قبل نظام حیدرآباد نے نجی ایرکرافٹ ٹہرانے ہینگر تعمیر کرایا تھا

شہر حیدرآباد کے گولی گوڑہ میں سی بی ایس (املی بن) بس اسٹانڈ کا کئی دہائیوں قدیم شیڈ گر پڑا۔یہ واقعہ آج صبح 7:30بجے پیش آیا۔اس شیڈ کے بوسیدہ ہونے کے سبب گزشتہ چار دنوں سے اس میں مسافرین اور بسوں کو جانے سے روک دیا گیا تھا تاہم آج صبح کی اولین ساعتوں میں یہ شیڈ بھاری آواز کے ساتھ گر پڑا۔بتایاجاتا ہے کہ اس کے لوہے کے پائپس بوسیدہ ہوگئے تھے جس کے نتیجہ میں یہ شیڈ گر پڑا ۔اس واقعہ میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔سمجھا جاتا ہے کہ نظام حیدرآباد نے اس شیڈ کو اپنے شخصی طیارہ کو ٹہرانے کے لئے 1930میں بنوایا تھا۔متحدہ آندھراپردیش میں آر ٹی سی نے اس کی مرمت کرتے ہوئے 1951سے بس خدمات کے آغاز کے لئے اس کو استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔اس بس اسٹانڈ سے روزانہ کئی ہزار مسافرین اپنی منزل کے لئے روانہ ہوا کرتے تھے ۔سی بی ایس بس اسٹانڈ سے 2385بسوں کی 2385ٹرپس کے ذریعہ مسافرین کو بھیجا جایا کرتا تھا۔مختلف اضلا ع تک خدمات انجام دینے والے اس بس اسٹانڈ سے 2006سے سٹی بس سروس شروع کردی گئی تھی۔اس کے شیڈ کے بوسیدہ ہونے کے سبب یہاں سے بس خدمات کو احتیاطی طورپر روک دیاگیا تھا۔پی ٹی آئی کے بموجب تقریباً 90سالہ قدیم ’’مسی سپی‘‘ ایرکرافٹ ہینگر جو گولی گوڑہ میں واقع ہے‘ آج صبح منہدم ہوگیا۔ اس نیم کروی آہنی گنبد والے شیڈ کو نظام حیدرآباد اپنے ذاتی ایرکرافٹ رکھنے کیلئے استعمال کرتے تھے مگر سقوط حیدرآباد کے بعد اے پی آر ٹی سی کے بعد تلنگانہ نے ٹی ایس آر ٹی سی بھی اس شیڈ کو استعمال کرتا رہا ہے۔ قدیم سنٹرل بس اسٹانڈ عرصہ دراز سے بس مسافرین کی آمدورفت کیلئیزیر استعمال رہا یہ ایرکرافٹ ہینگر جو ایک منفرد ڈھانچہ تھا‘ 1930میں تعمیر کیاگیا یا جسے بفلر مینوفیکچرنگ کمپنی امریکہ سے حیدرآباد لایا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ حیدرآباد کا پہلا ری فیبریکیٹیڈ ڈھانچہ تھا۔ قدیم سی بی ایس ایر کرافٹ ہینگر (شیڈ) حیدرآباد ٹرانسپورٹ ہیریٹج کا حصہ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسٹیٹ نظام روڈ ٹرانسپورٹ سسٹم ایشیاء کا سب سے بڑا پبلک روڈ ٹرانسپورٹ نظام تھا۔ مسی سپی ایرکرافٹ ہینگر کو نظام ریلوے نے پہلے بس ڈپو کے طورپر استعمال کیا تھا۔ بعدازاں اس آہنی گنبد والی عمارت کو سنٹرل بس اسٹانڈ میں تبدیل کردیا گیا۔ یہ بس اسٹیشن تقریباً 60برسوں تک بس مسافرین کیلئے استعمال کیا جاتا رہا۔ 1994سے اس بس ڈپو سے بین ریاستی اور ڈسٹرکٹ بس سرویس کو بند کرتے ہوئے ان بسوں کو املی بن (ایم جی بی ایس) سے چلائے جانے لگا جبکہ 2006سے سی بی ایس کو سٹی بس سرویس کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر سنیل شرما نے اس علاقہ کا معائنہ کیا اور افسروں کے ساتھ میٹنگ بھی منعقد کی۔

جواب چھوڑیں