کماراسوامی حکومت نے پہلا بجٹ پیش کردیا

کرناٹک کے چیف منسٹر ایچ ڈی کماراسوامی نے جمعرات کو ریاستی اسمبلی میں 579کروڑ خسارے کا بجٹ برائے2018-19ء پیش کیا جس میں اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے کسانوں کا قرض معاف کردیا جس سے سرکاری خزانہ پر 34ہزار کروڑ کا بوجھ عائد ہوگا۔ بجٹ میں برقی، پٹرو ل و ڈیزل، شراب کے علاوہ موٹر گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ کا اعلان کیا گیا۔ اپنا پہلا بجٹ پیش کرتے ہوئے جو عام آدمی کو متاثر کرے گا اور کسانوں کو کچھ راحت فراہم کرے گا، کماراسوامی نے پٹرول پر سیلس ٹیکس 30فیصد سے بڑھا کر32فیصد اور ڈیزل پر دو فیصد بڑھا کر21فیصد کردیا۔ پٹرول پر 1.14روپئے فی لیٹر اور ڈیزل پر 1.12روپئے فی لیٹر اضافہ کے باوجود ‘ ایندھن کی قیمتیں دیگر پڑوسی ریاستوں کے مقابلے میں کم ہی رہیں گی۔ کماراسوامی نے کہا کہ محکمہ آبکاری سے آمدنی ریاست کے لیے اہم ہے اور جاریہ مالیاتی سال کے لیے نظرثانی شدہ ہدف 19750کروڑ روپئے رکھا گیا جو پہلے 18,750کروڑ تھا۔ جون 2018ء کے ختم تک اس کھاتے سے 4674کروڑ وصول کیے گئے تھے۔ اس اضافہ سے دیسی ساختہ بیرونی شراب پر اضافی اکسائس ڈیوٹی کی موجودہ شرحیں 4فیصد بڑھ جائیں گی۔ موٹروہیکل ٹیکس کی مد میں مخلوط حکومت نے 6656کروڑ روپئے کی آمدنی کا ہدف رکھا ہے۔ موٹر وہیکل ٹیکس میں خانگی گاڑیوں کے لے 50فیصد اضافہ تجویز کیا گیا جو فلور ایریا کے مربع میٹر پر مبنی ہوگا۔ موجودہ شرحیں 1100، 1200،1300اور 1500ہیں جنہیں بڑھا کر 1650،1800 ،1950اور 2250روپئے کردیا جائے گا۔ برقی پر ٹیکس کی موجودہ شرحوں میں 6تا9فیصد اضافہ کی تجویز ہے۔ کسان نواز بجٹ میں کماراسوامی نے پہلے مرحلے میں 31؍ دسمبر2017ء تک حاصل کردہ دو لاکھ روپئے تک قرض معاف کرنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام سے ریاست کے تقریباً40لاکھ کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے سابقہ حکومت کے تمام پروگرامس کو جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا جن میں وہ پروگرامس بھی شامل ہیں جن کا سابق چیف منسٹر نے 16؍ فروری کے بجٹ میں اعلان کیا تھا۔کماراسوامی نے کہا کہ حکومت 218,488کروڑ روپئے کے جملہ مصارف کی تکمیل کے لیے جاریہ مالیاتی سال جملہ 47,134کروڑ روپئے قرض حاصل کرے گی۔جملہ مصارف میں 166,290کروڑ روپئے ریوینیو مصارف، 41,063کروڑ رروپئے کیپٹل مصارف کے علاوہ 11,136کروڑ روپئے قرضوں کی ادائیگی کے مصارف شامل ہیں۔ مالیاتی سال کے دوران جملہ 213,734کروڑ روپئے آمدنی کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاضل آمدنی کا تخمینہ 106کروڑ روپئے ہے۔ مالیاتی خسارہ 40,753کروڑ روپئے متوقع ہے جو ریاستی جی ڈی پی کا 2.89فیصد ہے۔ کماراسوامی حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں سماجی بہبود کے لیے گنگا کلیان اسکیم کے تحت سبسیڈی کو بڑھا کر50ہزار روپئے کردیا۔ درج فہرست ذات/قبائل کے پانچ ہزار بے روزگار نوجوانوں کو تکنیکی تربیت دی جائے گی جس پر تقریباً15کروڑ روپئے کا خرچ ہوگا۔ کلبرگی شہرمیں مسابقتی امتحانات کے لیے ایس سی/ایس ٹی کے گریجویٹ طلباء کو تیاری کرانے کی کوشش ہوگی۔ نامور اور باوقار اسپورٹس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس میں باصلاحات ایس سی/ایس ٹی کھلاڑیوں کی ٹریننگ پر دو کروڑ روپئے خرچ کیے جائیں گے۔

جواب چھوڑیں