ہجوم کے تشدد کو روکنے ریاستیں اقدامات کریں۔مرکز کی ہدایت

مرکز نے آج ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں سے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر بچہ چوری کی افواہوں کے نتیجہ میں ہجوم کی جانب سے پیٹ پیٹ کر ہلاک کئے جانے کے واقعات کی روک تھام کریں۔ گذشتہ 2 ماہ کے دوران بچہ چوری کے شبہ میں زائداز 20 افراد کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا ہے۔ حال ہی میں مہاراشٹرا کے ضلع دھولے میں 5 افراد کو ہلاک کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ وزارت ِ داخلہ نے اپنی ایک اڈوائزری میں ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی بچہ چوری کی افواہوں کے نتیجہ میں ہجوم کی جانب سے پیٹ پیٹ کر ہلاک کئے جانے کے واقعات پر نظر رکھیں اور ان کی روک تھام کے لئے اقدامات کریں۔ ریاستی اور مرکزی زیرانتظام علاقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ضلع انتظامیہ کو ہدایت دیں کہ وہ کمزور علاقوں کی نشاندہی کریں اور وہاں شعور بیداری و اعتماد سازی کے لئے عوام تک رسائی کے پروگراموں کا انعقاد عمل میں لائیں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ متاثرہ افراد میں اعتماد پیدا کرنے بچوں کے اغوا کی شکایات کی مناسب تحقیقات کریں۔ واضح رہے کہ بچہ چور ہونے کے شبہ میں تریپورہ میں 28 جون کو 2 افراد کو ہلاک کردیا گیا جبکہ آسام میں گذشتہ ماہ مزید 2 افراد کو پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا۔ چینائی میں ایک تعمیراتی کمپنی کے 2 ملازمین پر جو یہاں میٹرو ریل کے کام میں مصروف تھے ‘ گذشتہ ہفتہ اس وقت حملہ کیا گیا جب انہوں نے ایک مصروف سڑک پر ایک لڑکے کو سڑک پار کرنے سے روکا۔ ایک راہگیر نے فوری لوگوں کو چوکس کردیا اور بچہ چور ہونے کا شبہ کرتے ہوئے ان پر فوری حملہ کیا گیا۔ بہرحال پولیس نے انہیں بچالیا۔ منگل کے روز حکومت نے واٹس اَپ کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیرذمہ دارانہ اور دھماکو پیامات کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اقدامات کرے۔ مرکز نے کہا کہ سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم اپنی ذمہ داری سے پہلوتہی نہیں کرسکتا۔ واٹس اَپ سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایسے پیامات کے پھیلاؤ کو روکنے فوری اقدامات کرے۔ حکومت کی ہدایات کا جواب دیتے ہوئے امریکہ میں قائم سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے کل کہا کہ حکومت ‘ مہذب سماج اور ٹکنالوجی کمپنیاں مل جل کر کام کرتے ہوئے فرضی خبروں‘ گمراہ کن معلومات اور جھوٹی اطلاعات کو پھیلنے سے روک سکتی ہیں۔

جواب چھوڑیں