تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان

پاکستان کی نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہوا۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں صرف پیٹرول ہی نہیں بلکہ گیس اور بجلی کے نرخ بڑھنے کی بھی امکان ہے، اور اس کی وجوہات داخلی ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی بھی ہیں۔پاکستان کی نگراں حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے بعد اب پیٹرول کی قیمت ننانوے روپے پچاس پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ جب کہ تیل کی دیگر مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔اقتصادی ماہرین ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں ، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجوہات مختلف ہیں۔ویدر فورڈ سعودی عربیہ اینڈ بحرین نامی تیل کمپنی کے سابق جنرل منیجر مسعود ابدالی کہتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات تکنیکی نوعیت بھی ہیں اور سیاسی بھی ہیں۔مسعود ابدالی کہتے ہیں کہ،معاملہ یہ نہیں ہے کہ سعودی عرب کی تیل کی پیداوار اس سلسلے میں عالمی سطح پر ہونے والی کمی کو پورا کرے گی۔ معاملہ ایران کا بھی ہے۔ معاملہ وینزویلا کا بھی ہے۔ معاملہ لیبیا کا بھی ہے اور معاملہ انگولا کا بھی ہے۔ یہ دنیا بھر میں تیل پیدا کرنے والے ممالک ہیں۔ ان سب میں سوائے سعودی عرب اور روس کے، کسی ملک کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ تیل کی پیداوار میں اضافہ کر سکے۔اقتصادی ماہر ڈاکٹر شاہد مسعود صدیقی پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو داخلی معاملات سے جوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ طاقتور طبقوں کو ٹیکسوں میں بے جا چھوٹ اور مراعات دی گئی ہیں۔ ان دونوں سے جو نقصان ہوتا ہے، اس کا بوجھ پورا کرنے کا آسان راستہ یہ ہے کہ پیٹرول اور بجلی اور گیس کے نرخ بڑھا دئیے جائیں۔ تو جب آپ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاتے ہیں تو اس میں وصولی سو فیصد ہو جاتی ہے۔مسعود عبدالی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافے سیاسی وجہ بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کیخلاف پابندیوں کے ضمن میں، اس کی تیل کی برآمد بھی روکنا چاہتے ہیں۔ امریکی حکومت بھارت سے بھی یہ کہہ چکی ہے کہ وہ ایران سے تیل نہ خریدے، جو ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے۔دوسری جانب ، صدر حسن روحانی نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کے تیل کی فروخت پر پابندی لگی تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیں گے۔ اس بارے میں عبدالی کہتے ہیں کہ اگر واقعی انہوں نے آبنائے ہر مز کو بند کر دیا، یا کچھ دن کے لئے بند کیا ، یا مال بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تعطل ڈالا ، تو اس کی وجہ سے بھی تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ آئندہ دنوں میں، دنیا میں تیل کی پیداوار، اس کی ضرورت سے کم ہو گی یا اس کی ضرورت کے برابر ہو گی، تو میرا خیال ہے کہ تیل قیمت جو اس وقت پچھتر سے اسی یا پچاسی ڈالر فی بیرل کے قریب ہے ، آئندہ تین چار مہینوں کے درمیان، اس کی قیمت میں ہر ہفتے دو سے تین فی صد اضافے کا امکان ہے۔ڈاکٹر صدیقی کہتے ہیں کہ اس میں مسئلہ عالمی مالیتی فنڈ کا بھی ہے، جو کہ ہمیشہ بجٹ خسارہ کم کرنے کی بات کرتا ہے اور آئندہ دنوں میں نہ صرف تیل بلکہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ڈاکٹر شاہد کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں، جو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، اس سے فائدہ اٹھا کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر کے، ٹیکس چوری کی حوصلہ افزائی کر کے، ان نقصانات کو یہاں سے پورا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ اس سے ہماری برآمدات متاثر ہوں گی، روزگار کے مواقع کم ہوں گے، اور معیشت کی شرح نمو سست ہو جائے گی۔ اور بدقسمتی سے آئی ایم ایف کا جو نسخہ ہے، وہ ہے بنیادی طور پر بجٹ خسارہ کم کرنا، تو یہ چیز اس میں بھی فٹ آ جاتی ہے۔مسعود عبدالی کہتے ہیں کہ سعودی عرب کے لئے تکنیکی ترسیل کا دوسرا راستہ، بحیرہ احمر سے گزرتا ہے۔ اور بحیرہ احمر ، یمن کے ساتھ واقع ہے جہاں ہو تیوں کا اثر و رسوخ ہے، اور وہ بھی تیل کی ترسیل میں خلل ڈال سکتے ہیں ، جس سے تیل کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں