دہلی میٹرو کے ملازمین کی مجوزہ ہڑتال پردہلی ہائیکورٹ کا حکم ِ التوا جاری

لاکھوں مسافرین کو ایک بڑی راحت دیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے آج اپنے عبوری احکام میں توسیع کی ہے ، جو دہلی میٹرو ملازمین کی گروپ کی جانب سے تنخواہوں میں اضافہ اور ترقیوں سے متعلق مطالبات پر ہڑتال پر جانے سے باز رکھنے کے لیے ہیں۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آرسی) کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس پرتیبھا رانی نے اسٹاف کونسل کے ارکان کو مزید احکام تک ہڑتال پر جانے سے باز رکھا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ ردّ ِ عمل داخل کریں۔ عدالت نے اس معاملہ کی مزید سماعت 4 ستمبر مقرر کی ہے۔ 29 جون کو ہائی کورٹ نے میٹرو ملازمین کے ایک گوشہ کو ہڑتال پر جانے سے باز رکھا تھا۔ ڈی ایم آر سی کا اس کے نان اگزیکٹیو ملازمین کے ساتھ شرح تنخواہوں اور بقایہ جات کی ادائیگی کے بارے میں تنازعہ ہے۔ اس زمرہ کے نو ہزار ملازمین نے انتباہ دیا تھا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں کیے گئے تو وہ 30 جون سے ہڑتال شروع کردیںگے۔ یہ ورک فورس اسٹیشن کنٹرولرس ، ڈرائیورس ، ٹکنیشین اور دیگر اسٹاف پر مشتمل ہے ، جو میٹرو کے روزمرہ کے آپریشنس انجام دیتے ہیں۔ ان ملازمین نے 19 جون کے بعد سے علامتی احتجاج شروع کیا ۔ وہ پلیٹ فارم پر بیٹھے رہے ، کالی پٹیاں باندھے رہے اور لنچ اور آرام کے اوقات کا بائیکاٹ کرتے رہے۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ 30 جون سے مکمل ہڑتال کریںگے۔ ملازمین نے کہا کہ تنازعہ 2007ء کا ڈی ایم آر سی رول ہے ،جس کے ذریعہ کارپوریشنس نے دو شرح تنخواہیں مقرر کی ہیں جو اگزیکٹیو اور نان اگزیکٹیوز کے لیے علیحدہ علیحدہ ہیں۔ اس کے ذریعہ اگزیٹیو اسٹاف کو گریڈ اور اسکیل شیڈول اے پبلک سیکٹر یونٹس کے مساوی مقرر کیا گیا اور نان اگزیکٹیوز اسٹاف کو کمتر اور مختلف گریڈ کے تحت شرح تنخواہ مقرر کی گئی۔ 23 جولائی 2017ء کو ملازمین اور ڈی ایم آر سی کے درمیان سمجھوتہ لٹکا رہا ۔ کارپوریشن کو کے گریڈ اور گرانٹ میں چند نئی تبدیلیاں لانی تھیں ، تاکہ احتجاجی ملازمین یکم جولائی 2015ء سے اپنے بقایہ جات حاصل کرسکیں، تاہم یہ معاملت ناکام ثابت ہوئی ۔ دہلی میٹرو کی جانب سے ہر کام کے دن تقریباً 27 لاکھ مسافر سفر کرتے ہیں ۔

جواب چھوڑیں