ذاکر نائک کو ہندوستان واپس نہیں بھیجا جائے گا۔ وزیراعظم ملایشیا مہاتر محمد کا اعلان

وزیراعظم ملایشیا مہاتر محمد نے متنازعہ اسلامی مبلغ ذاکر نائک کی ہندوستان حوالگی کو خارج ازبحث قراردیا بشرطیکہ وہ ملایشیا میں کوئی مسائل پیدا نہ کریں جہاں انہیں مستقل رہائشی موقف دیا گیا ہے۔ جنوری میں ہندوستان نے ملایشیا سے باقاعدہ درخواست کی تھی کہ ذاکر نائک کا اخراج عمل میں لایا جائے جو اپنی تقاریر کے ذریعہ نوجوانوں کو دہشت گرد سرگرمیوں کے لئے اکسانے کے الزام میں ہندوستان کو مطلوب ہیں۔ ہندوستان نے ملایشیا کے ساتھ حوالگی ٔ مجرمین کا معاہدہ کررکھا ہے ۔ مہاتر محمد نے کہہ دیا کہ ذاکر نائک کو ہندوستان واپس نہیں بھیجا جائے گا۔ انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ جب تک وہ (ذاکر نائک) یہاں کوئی مسئلہ پیدا نہ کریں ہم انہیں اپنے ملک سے نکال باہر نہیں کرسکتے کیونکہ انہیں مستقل رہائشی موقف دیا گیا ہے ۔ مہاتر محمد سے ذاکر نائک کے لازمی اخراج کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ وزیر داخلہ محی الدین یٰسین بھی سابق میں کہہ چکے ہیں کہ ذاکر نائک ملایشیا کے حکام کو اسی وقت جواب دہ ہوں گے جب وہ یہاں کا کوئی قانون توڑیں۔ ملایشیا کے انسپکٹر جنرل پولیس محمد فوزی ہارون نے کہا کہ ان میڈیا اطلاعات کی تردید کی تھی کہ ذاکر نائک کو ڈیپورٹ کیا جارہا ہے۔ ملایشیا کے میڈیا نے یہ اطلاع دی۔ جاریہ ہفتہ خبریں آئی تھیں کہ 52 سالہ ذاکر نائک کو حکومت ملایشیا ‘ ہندوستان ڈیپورٹ کرنے والی ہے۔ ان خبروں کے بعد ڈاکٹر ذاکر نائک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اُس وقت تک ہندوستان نہیں لوٹیں گے جب تک کہ انہیں یہ احساس نہ ہوجائے کہ ان کے خلاف غیرمنصفانہ کارروائی نہیں ہوگی۔ مبلغ اسلام کے خلاف ہندوستان کی نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی(این آئی اے) دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کررہی ہے ۔وہ جولائی 2016 میں ہندوستان سے روانہ ہوگئے تھے۔ این آئی اے نے 2016 میں ان کے خلاف پہلا کیس درج کیا تھا کہ وہ مختلف مذہبی گروپس کے درمیان نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ این آئی اے اور ممبئی پولیس نے ممبئی میں 10 مقامات پر تلاشیاں بھی لی تھیں۔ ان مقامات میں ذاکر نائک کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن (آئی آر ایف) کے بعض عہدیداروں کے مکانات شامل تھے۔ وزارت ِ داخلہ نے قبل ازیں آئی آر ایف پر پابندی لگادی تھی کہ وہ بیرونی ممالک سے عطیات حاصل نہیں کرسکتی۔

جواب چھوڑیں