رائس ملرس پر علیحدہ پالیسی کا عنقریب اعلان:ریاستی وزیر فینانس ای راجندر

حکومت تلنگانہ بہت جلد رائس ملرس پر علیحدہ پالیسی لے آئے گی ۔ اس بات کا فیصلہ ریاستی وزیر فینانس وسیول سپلائز ایٹالہ راجندر اور رائس ملرس کے ساتھ منعقدہ بات چیت کے دوران کیا گیا ۔ سکریٹریٹ میں جمعہ کو رائس ملرس اور حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ریاستی وزیر فینانس ایٹالہ راجندر نے کہا کہ حکومت، عنقریب رائس ملرس پر علحدہ پالیسی جاری کرے گی ۔ بعدازاں یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدرنشین سیول سپلائز کارپوریشن پدی سدرشن ریڈی نے بتایا کہ اجلاس میں رائس ملرس نے انہیں درپیش مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ انہیں سب سے بڑا مسئلہ بقایہ جات کی اجرائی کا ہے جو450کروڑ روپے کے قریب ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملرس کو بقایہ جات کی ادائیگی اور دیگر مسائل کی یکسوئی کیلئے حکومت کو آگے آنا چاہئے ۔ مشن کاکتیہ اور مشن بھاگیرتا پر کامیابی کے ساتھ عمل آوری کے نتیجہ میں ریاست میں دھان کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔ دھان کی پیداوار میں اضافہ کے سبب رائس ملرس کا کاروبار بھی بڑھنے کا امکان ہے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت ، فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریل پالیسی کے مطابق استفادہ کنند گان کو فائدہ پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی ۔ ریڈی نے کہا کہ ملرس کے ساتھ ایک اور اجلاس آئندہ 2ہفتوں کے دوران منعقد ہوگا ۔ ریاست میں دھان کی پیداوار سب سے زیادہ ہوئی ہے اس لئے حکومت، کسانوں کے ساتھ ملرس کو بھی یکساں اہمیت دیتی ہے ۔ اس اجلاس میں وزیر بلدی نظم ونسق وشہری ترقیات کے تارک راماراؤ، کمشنر سیول سپلائز اکون سبھروال اور دیگر موجود تھے۔

جواب چھوڑیں