رام مادھو کی، پاسپورٹ تنازعہ میں پہلی بار سشما سوراج کی تائید

شاید پہلی بار رام مادھو جیسا سینٹر بی جے پی لیڈر نے آج پاسپورٹ تنازعہ پر وزیر خارجہ سشما سوراج کا دفاع کیا ۔ مادھو نے ایک اخبار میں شائع مضمون میں وزیر خارجہ کو بیگم سشما یا ان کی صحت اور گردے کی تبدیلی کے تعلق سے اور بھی خراب الفاظ یا ایک ریٹائرڈ پروفیسر کی جانب سے ان کے شوہر کو انہیں زدوکوب کا مشورہ دینا ایک ایسے لیڈر کے لیے جو سیاست میں ناموافق اور مشکل حالات میں قوم پرستی کے لیے جدوجہد کرتی رہی کو اس نظریے کے حامل ہونے کی داعی ہیں کی سرزنش کی ، تاہم بی جے پی جنرل سکریٹری مادھو کے مضمون میں موضوع بدل کر تجویز پیش کی گئی کہ سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کو چاہیے تھا کہ سشما سوراج کے بجائے وہ علماء پر تنقید کرتے۔ رام مادھو نے مضمون میں تحریر کیا کہ بدقسمتی سے اس کیس میں خاتون جس نے ثابت قدم رہ کر کہا کہ وہ ہندو ہی رہنا چاہتی ہے ویلن بن گئی اور قدامت پسند عالم جس نے اس کو مسلم نام دیا ہیرو بن گیا ۔ انگریزی اخبار ’’دی انڈین اکسپریس‘‘ میں شائع مضمون میں پاسپورٹ تنازعہ جس میں تنوی سیتھ کا حوالہ دیا گیا ، گیارہ سال قبل ایک مسلمان سے شادی کی تھی۔ مادھو نے مضمون میں کہا کہ سوشل میڈیا کے کارکنوں کو چاہیے تھا کہ وہ ان علماء کی مخالفت کرتے جو نکاح نامہ میں تنوی سیتھ کا نام بدلنے پر ڈٹے رہے۔ نکاح نامہ میں نام سعدیہ ہے ، جب کہ دیگر تمام دستاویزات ، آدھار کارڈ ، بینک اکاؤنٹ میں درج کردہ نام تنوی سیتھ ہے۔

جواب چھوڑیں