مہاراشٹرا اسمبلی میں برقی گُل‘ اجلاس دن بھر کیلئے ملتوی۔ ناگپور میں موسلادھار بارش کے باعث سوئچ سنٹر زیرآب

مہاراشٹرا اسمبلی میں آج یہاں کوئی کام نہیں ہوسکا کیونکہ بارش کے باعث برقی گُل ہوگئی تھی۔ حلیف جماعت شیوسینا اور اپوزیشن نے حکومت کو نشانہ تنقید بنایا۔ ناگپور میں قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل کا اجلاس صبح میں دن بھر کے لئے ملتوی ہوگیا کیونکہ روشنی نہیں تھی۔ اسمبلی کامپلکس کو برقی سربراہ کرنے والا سوئچنگ سنٹر‘ شہر میں موسلادھار بارش کے باعث زیرآب آجانے سے برقی سربراہی روک دی گئی تھی۔ مہاراشٹرا کا دوسرا دارالحکومت کہلانے والے ناگپور میں عام طورپر اسمبلی کا سرمائی اجلاس منعقد ہوتا ہے لیکن 1961کے بعد سے پہلی مرتبہ یہاں مانسون اجلاس منعقد کیا جارہا ہے۔ ناگپور شہر میں کل رات موسلادھار بارش ہوئی۔ آج صبح 10 بجے جیسے ہی اسمبلی اجلاس شروع ہوا‘ تاریکی ہی تاریکی تھی۔ اسپیکر ہری بھاؤ باگڑے نے اجلاس ایک گھنٹہ کے لئے ملتوی کردیا۔ انہوں نے کہا کہ زیرزمین پیانل زیرآب آجانے کی وجہ سے سوئچنگ سنٹر بند کرنا پڑا ہے۔ چیف منسٹر دیویندر پھڈنویس نے اسپیکر کے چیمبر میں مختلف جماعتوں کی میٹنگ طلب کی جہاں طے پایا کہ اسمبلی اجلاس دن بھر کے لئے ملتوی کردیا جائے۔ وزیر تعلیم ونود تاؤڑے نے اخباری نمائندوں کو یہ بات بتائی۔ 11 بجے جب اجلاس دوبارہ طلب کیا گیا تو سیکوریٹی عملہ کو اسپیکر کو ان کی نشست تک پہنچانے موبائل فونس کی لائٹس کا سہارا لینا پڑا۔ باگڑے نے اعلان کیا کہ اجلاس دن بھر کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے۔ اپوزیشن کانگریس اور این سی پی قائدین کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن برقی نہ ہونے کے باعث مائیک کام نہیں کررہے تھے اور اس طرح ان کی آواز سنائی نہیں دی۔ دوپہر میں قانون ساز کونسل میں اس کے صدرنشین رام راجے نائک نمبلکر نے بھی اجلاس دن بھر کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ بعدازاں چیف منسٹر نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ناگپور میں بارش کے موسم میں دو تین بار موسلادھار بارش ہوتی ہے لیکن آج کی بارش غضب کی تھی۔ سوئچنگ سنٹر زیرزمین ہے اور وہ زیرآب آگیا۔ شیوسینا نے جو بی جے پی کی حلیف ہے‘ بی جے پی پر تنقید کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ اس کے قائد سنیل پربھو نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ناگپور ریاست کی دوسری راجدھانی اور اہم شہر ہے۔ ناگپور میونسپل کارپوریشن پر بی جے پی کا قبضہ ہے۔ اسے یہ بنیادی ڈھانچہ یقینی بنانا چاہئے تھا کہ بارش سے اسمبلی اجلاس کی کارروائی درہم برہم نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممبئی میں ہوا ہوتا تو شیوسینا کی بی ایم سی پر تنقیدوں کی باڑھ آجاتی ۔ ہر کوئی بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کرتا۔ پربھو نے کہا کہ وہ علاقے بھی زیرآب آگئے ہیں جہاں وزیروں کے بنگلے اور رہائشی کوارٹرس واقع ہیں۔ سینئر این سی پی قائد اجیت پوار نے کہا کہ آج جو ہوا وہ غلط اور قابل مذمت ہے ۔افسوس کی بات ہے کہ اسپیکر ہری بھاؤ باگڑے کو سوئچنگ سنٹر پیانل سے پانی کی نکاسی کی شخصی طورپر نگرانی کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ناگپور میں مانسون اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ تاخیر سے کیا۔ حکام کے پاس انتظامات کے لئے وقت کم رہ گیا تھا۔ یہ حکومت کی ناکامی ہے کہ وہ مانسون اجلاس کی کارروائی نہ چلاسکی جہاں 288 ارکان اسمبلی ‘ عوام کے مسائل اٹھانے کے لئے آئے تھے۔ این سی پی رکن اسمبلی اور سابق وزیر بھاسکر جادھو نے کہا کہ یہ حکومت پوری طرح بے نقاب ہوچکی ہے ۔ اس نے ناگپور میں مانسون اجلاس کا فیصلہ کیا تھا تو اسے چاہئے تھا کہ وہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم کے تمام انتظامات کرتی۔

جواب چھوڑیں