نواز شریف کو پہلے کرپشن کیس میں 10 سال جیل۔8 ملین پاؤنڈ کا جرمانہ

پاکستان میں آج احتساب عدالت نے برطرف وزیراعظم نواز شریف کو ہائی پروفائل پنامہ اسکینڈل میں کرپشن کے 3 کے منجملہ ایک کیس میں 10 سال جیل کی سزا سنائی۔ عدالت نے ایون فیلڈ کرپشن کیس میں 4 مرتبہ التوا کے بعد آخرکار فیصلہ سنادیا۔ یہ کیس لندن کے پوش ایون فیلڈ ہاؤس میں 4 فلیٹس کی ملکیت سے متعلق ہے۔ 68 سالہ نواز شریف اپنی علیل اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کے لئے لندن میں ہیں جنہیں گذشتہ برس حلق کا کینسر ہوا تھا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے بند کمرہ میں فیصلہ سنایا۔ نواز شریف کو ایون فیلڈ پراپرٹیز کیس میں 10 سال جیل کی سزا ہوئی ہے جبکہ ان کی لڑکی مریم نواز کو 7 سال کی سزا سنائی گئی۔ نواز شریف کے داماد ریٹائرڈ کپتان صفدر کو ایک سال کی جیل ہوئی۔ نواز شریف پر 8 ملین پاؤنڈ(10 ملین امریکی ڈالر) اور ان کی لڑکی مریم نواز پر 2 ملین پاؤنڈ(2.6 ملین امریکی ڈالر ) کا جرمانہ عائد ہوا۔فیصلہ زائداز 100 صفحات کا ہے اور یہ پاکستان میں 25 جولائی کے عام انتخابات سے قبل آیا ہے۔ حکام نے فیڈرل جوڈیشیل کامپلکس کے اندر اور اطراف کڑا پہرہ لگادیا تھا۔ احتساب عدالت اسی کامپلکس میں واقع ہے۔ 3 مرتبہ وزیراعظم رہے محمد نواز شریف گذشتہ برس سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قراردیئے جانے کے بعد مستعفی ہوگئے تھے۔ عدالت نے کہا تھا کہ وہ صادق و امین نہیں رہے۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ پنامہ پیپرس اسکینڈل معاملہ میں ان کے اور ان کے بچوں کے خلاف کرپشن کیسس چلیں گے۔ نواز شریف اور ان کی لڑکی مریم نواز نے پاکستان میں حاضر عدالت ہونے اور لندن میں کلثوم نواز کی عیادت کے لئے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان کئی سفر کئے۔ ایون فیلڈ کیس سابق وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف قومی احتساب بیورو(این اے بی) کے دائر کردہ 3 کیسس میں ایک ہے جو پنامہ پیپرس معاملہ میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر درج ہوئے تھے۔ نواز شریف‘ ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد ریٹائرڈ کپتان صفدر کے علاوہ نواز شریف کے 2لڑکے حسن اور حسین بھی اس کیس میں ملزم ہیں۔ انہیں اشتہاری مجرم قراردیا گیا کیونکہ وہ حاضر عدالت نہیں ہوئے۔

جواب چھوڑیں