نہرو‘ اکھنڈ بھارت کے نظریہ کے مخالف تھے۔ارون جیٹلی کا کانگریس پر طنز

 مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے جمعہ کے دن کانگریس پر تنقید کی کہ اس نے شیاما پرساد مکرجی کو ’’اکھنڈ بھارت ‘‘ کی وکالت سے روکنے 1951 میں دستور میں ترمیم کی تھی جبکہ آج اسے ’’ٹکڑے ٹکرے‘‘ کے نعرے ’’جائز آزادانہ اظہار ِ رائے‘‘ لگتے ہیں۔ جیلی نے بی جے پی کی پیشرو/ ابتدائی شکل بھارتیہ جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکرجی کے 117 ویں یوم پیدائش پر فیس بک پوسٹ میں کہا کہ 1951 میں دستور میں پہلی ترمیم اور 1963میں 16 ویں ترمیم سے اظہار ِ رائے کی آزادی کے حق پر مزید بندشیں لگ گئیں۔ جیٹلی نے کہا کہ اُس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو اکھنڈ بھارت (غیرمنقسم یا متحد ہندوستان) کے نظریہ کے مخالف تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس کے نتیجہ میں جنگیں ہوں گی۔ شیاما پرساد مکرجی کو اس کاز کی وکالت سے روکنا مشکل ہوگیا تو نہرو نے دستور میں پہلی ترمیم کرڈالی۔ اپریل 1950 کے نہرو۔ لیاقت معاہدہ سے دو دن قبل شیاما پرساد مکرجی نے جو آزاد ملک کی پہلی کابینہ میں ہندو مہا سبھا کے نمائندہ کے طورپر وزیر صنعت تھے‘ احتجاجاً کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے نہرو۔ لیاقت معاہدہ کے خلاف سخت موقف کھلے عام اختیار کیا تھا۔ نہرو نے مکرجی کی تنقید پر کچھ زیادہ ہی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اکھنڈ بھارت کے نظریہ کی تشریح جنگ کو دعوت دینے کے طورپر کی کیونکہ جنگ کے سوا کسی اور طریقہ سے ملک کو پھر سے متحد نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کے برخلاف مکرجی کا دعویٰ تھا کہ پاکستان‘ جنگ چاہتا ہے اور ایک جنگ لڑکر جموں وکشمیر کا ایک حصہ حاصل کرچکا ہے لہٰذا یہ کہنا کہ اکھنڈ بھارت کی ان کی تقریروں کے نتیجہ میں جنگ ہوگی یہ کہنا ٹھیک نہیں۔ یو این آئی کے بموجب سینئر بی جے پی قائد اور مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے جمعہ کے دن ڈاکٹر شیاما پرساد مکرجی کے یوم پیدائش کو جے این یو میں ٹکرے ٹکڑے (بھارت تیرے ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے) کے نعرہ والے احتجاج کو نشانہ تنقید بنانے اور نہرو دور کی سیاست پر طنز کے لئے استعمال کیا۔ ارون جیٹلی گردہ کی پیوندکاری کے بعد ان دنوں اپنے بنگلہ پر آرام کررہے ہیں۔

جواب چھوڑیں