وانی کی برسی کے پیش نظر وادی میں سخت چوکسی ۔ تاریخی جامع مسجد ایک بار پھر مقفل ، یٰسین ملک گرفتار

تاریخی جامع مسجد کو ایک بار پھر مقفل کردیا گیا ، تاکہ ڈاؤن ٹاؤن میں جمعہ کے موقع پر اجتماع کو روکا جائے۔ وہاں آج صبح سے ہی بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسس اور ریاستی پولیس ملازمین کو متعین کیا گیا۔ اعتدال پسند حریت کانفرنس (ایچ سی) کے صدرنشین میر واعظ مولوی عمر فاروق کو حزب المجاہدین (ایچ ایم) کے جنگجو کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی سے دو روز قبل ہی گھر پر نظر بند رکھا گیا ہے۔ 8 جولائی 2016ء کو برہان وانی سیکورٹی فورس کے ساتھ ایک انکاؤنٹر میں ہلاک ہوگئے تھے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت (جے آر ایل) جو سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ اور محمد یٰسین ملک پر مشتمل ہے۔ اس کی جانب سے مذہبی مفتیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ بعد ِ نماز ِ جمعہ برہان جو انکاؤنٹر میں ہلاک ہوئے اور 120 شہری جو 2016ء میں حزب المجاہدین کے کمانڈر کی ہلاکت کے بعد پھیلی چھ ماہ طویل بے چینی کے دوران فوت ہوئے ان کے لیے فاتحہ خوانی کریں۔ علیحدگی پسندوں نے اتوار کو ہڑتال کا بھی اعلان کیا تھا۔ مسجد جو میر واعظ کا مضبوط گڑھ ہے ، اس کے تمام گیٹس مقفل کردیے گئے اور سیکورٹی فورسس اور ریاستی پولیس ملازمین کو تعینات کردیا گیا، جو بلیٹ پروف جیکٹس پہنے ہوئے اور آٹو میٹک ہتھیار ہاتھ میں لیے ہوئے اس علاقہ میں بڑی تعداد میں متعین کیے گئے ، تاکہ جمعہ کی نماز کے بعد لوگوں کے اجتماع کو روکا جاسکے۔ سیکورٹی فورسس کو جامع مارکٹ اور قریبی علاقوں میں بھی متعین کیا گیا اور کسی کو بھی وہاں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ جامع مسجد کے مؤذّن نے یو این آئی کو بتایا کہ سیکوریٹی فورسس نے انہیں مطلع کیا کہ جمعہ کی نماز کی وہاں اجازت نہیں دی گئی ہے۔ مین نوہٹہ روڈ ٹریفک کے لیے کھلی تھی ، جب کہ چند ہی گاڑیاں سڑک پر چل رہی تھیں ، تاہم راجوری کدل اور بندیل اسٹاف روڈس کو خاردار تار لگاتے ہوئے بند کردیا گیا۔ حریت کانفرنس کے ایک ترجمان نے یو این آئی کو بتایا کہ نیم فوجی دستے اور ریاستی پولیس ملازمین کو جمعہ کی صبح میر واعظ کی نگین رہائش گاہ کے باہر متعین کیا گیا۔ میر واعظ کو مطلع کیا گیا کہ انہیں گھر پر نظربند رکھا گیا ہے ۔ پولیس نے علیحدگی پسند قائد محمد یٰسین کو حزب المجاہدین کے جنگجو کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی سے دو روز قبل گرفتار کیا ہے ۔ برہان وانی ، ضلع اننت ناگ میں سیکورٹی فورسس کے ساتھ ایک انکاؤنٹر میں ہلاک ہوگئے تھے ، تاہم عہدیداروں نے کہا کہ ملک کو احتیاطی تحویل میں لیا گیا ہے۔ فرنٹ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پولیس پارٹی نے ملک کو ان کی میسومہ رہائش گاہ کے قریب آج صبح کی نماز کے بعد گرفتار کیا ۔ انہوں نے بتایاکہ ملک کو پولیس اسٹیشن میسومہ میں رکھا گیا ہے ۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت جے آر ایل جو سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ مولوی عمر فاروق اور ملک پر مشتمل ہے ، برہان وانی کی دوسری برسی کے موقع پر 8 جولائی کو عام ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان کو ضلع اننت ناگ میں موضع بمدورہ کرنال میں ہلاک کیا گیا۔ ان کی ہلاکت کے بعد تقریباً 6 ماہ تک بڑے پیمانہ پر احتجاج کیے گئے ۔ ان میں تقریباً 120 افراد جن میں بیشتر نوجوان تھے وادی میں سیکوریٹی فورسس کے ایکشن میں ہلاک ہوگئے۔

جواب چھوڑیں