چیف جسٹس ہی ماسٹر آف روسٹر: سپریم کورٹ

 سپریم کورٹ نے جمعہ کے دن پھر کہا کہ چیف جسٹس ہی ’’ماسٹر آف روسٹر‘‘ ہے اور مختلف بنچس کو کیسس الاٹ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس نے کسی چھیڑچھاڑ کے خلاف خبردار بھی کیا اور کہا کہ اس سے عدلیہ کی آزادی پر آنچ آئے گی۔ جسٹس اے کے سیکری نے کہا کہ ماسٹر آف روسٹر کے طورپر چیف جسٹس کے رول کے تعلق سے دستور خاموش ہے لیکن عدالت کا ڈسپلن اور احترام برقرار رکھنے یہ بہتر ہے۔ جسٹس اشوک بھوشن نے متوازی لیکن علیحدہ فیصلہ میں کہا کہ سی جے آئی کا مطلب پورا کالجیم ہے یہ تشریح قبول کرنا مشکل ہے۔ ایسی تشریح سے روزمرہ کا کام دشوار ہوجائے گا۔ چیف جسٹس نے سینئر وکیل شانتی بھوشن کی درخواست کی یکسوئی کردی۔ شانتی بھوشن کا استدلال تھا کہ چیف جسٹس کو کیسس الاٹ کرنے کے اختیار کا استعمال کالجیم کے دیگر 4 ججس کے صلاح و مشورہ سے کرنا چاہئے۔ کالجیم کی اجتماعی رائے ‘ چیف جسٹس کی اکیلی رائے سے زیادہ محفوظ ہوگی۔ سپریم کورٹ نے سابق میں بھی کہا تھا کہ کیسس کے الاٹمنٹ کا اختیار چیف جسٹس کو ہی ہے۔

جواب چھوڑیں