یورپی ممالک کے پیاکیج میںصرف وعدے کوئی ایکشن پلان نہیں:روحانی

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ امریکہ کا جوہری معاہدے ختم کرنے کے بعد یورپی ممالک کی جانب سے معاہدے کو برقرار رکھنے کے دی گئی تجاویز ‘مایوس کن’ ہیں۔ایران کے صدر نے کہا کہ امریکہ کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد اقتصادی نقصانات کو کم کرنے کے یورپی ممالک کی پیشکش ناکافی ہے۔ایرانی کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق صدر حسن روحانی نے فرانس کے صدر اور جرمنی کی چانسلر سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفون پر بات کی۔فرانس کے صدر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فرانس کا تجویز کردہ پیکج زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتا۔صدر روحانی نے کہا کہ ’بدقسمتی سے اس میں عام وعدہ کیے گئے ہیں لیکن کوئی ایکشن پلان موجود نہیں ہے۔ ‘صدر حسن روحانی نے فرانس کے صدر کے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس پیکج سے ایران کے تمام مطالبات پورے نہیں ہوتے ہیں۔’ایران کی صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں وزارتی اجلاس جمعے سے شروع ہو رہا ہے۔یہ اجلاس ایران اور عالمی دنیا کے مابین دو ہزار پندرہ میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کے انخلا کے دو ماہ بعد منعقد ہو رہا ہے۔صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایران پرامید ہے کہ اس اجلاس میں معاملات طے پا جائیں گے۔یاد رہے کہ رواں سال مئی میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔۔امریکہ نے مختلف ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارت نہ کریں اور ایران سے تیل کی خریداری بھی نومبر تک ختم کر دیا نہیں تو جوابی اقدامات کے لیے تیار رہیں۔اس معاہدے میں شامل دیگر ممالک، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس ایران سے کیے گئے جوہری معاہدے کو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن اپنی کمپنیوں کے ایران میں سرمایہ کاری ختم کرنے کے معاملے پر بے بس دکھائی دیتے ہیںویانا میں ہونے والے اجلاس میں ایران کو معاہدے ختم نہ کرنے سے لیے یورپی پیکج پر بات ہو گی، جس میں اقتصادی اقدامات شامل ہیں۔اس اجلاس میں ایران کے وفد کی سربراہی ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کر رہے ہیں۔ دو ہزار پندرہ میں ویانا ہی میں ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔ایران کو شکایت ہے کہ معاہدے کے بعد اْس کی توقعات کے مطابق بیرونی سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔امریکہ کی جانب سے معاہدے ختم کرنے کے بعد سے ایران کو اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ اس کی کرنسی کی قدر گر رہی ہے اور عوام سڑکوں پر اجتجاج کر رہے ہیں۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے جمعرات کو جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل سے کہا کہ امریکہ کے ایران جوہری معاہدے سے ہٹنے کی تلافی کے لئے دیا گیا یورپی یونین (ای یو) کا پیکیج ‘مایوس کن’ ہے ۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اس کی اطلاع دی ۔روحانی نے اپنے بیان میں کہا، ”بدقسمتی سے مجوزہ پیکیج میں تعاون جاری رکھنے کے ایکشن پلان اور اس کے لئے واضح روڈ میپ کا فقدان ہے ۔ اس میں یورپی یونین کے پرانے بیانات کی طرح کچھ عام وعدے شامل ہیں”۔ایرانی جوہری ڈیل سے امریکی علیحدگی کے بعد کی صورت حال پر بات چیت کے لیے پانچ عالمی طاقتوں اور ایران کے اعلیٰ سفارت کاروں کی ایک انتہائی اہم ملاقات آج آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہو رہی ہے۔ تہران حکومت اس وقت جوہری ڈیل کو بچانے اور اب تک حاصل شدہ اقتصادی مراعات کے تسلسل کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ دوسری جانب ویانا میں موجود ایرانی صدر حسن روحانی نے فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی ہے۔ اس گفتگو میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جوہری ڈیل کو بچانے کے لیے یورپی اقتصادی اقدامات ناکافی ہیں۔
برلن۔6جولائی(اے پی) جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری ڈیل سے امریکی علیحدگی کے بعد عائد ہونے والی پابندیوں کا عالمی طاقتٰیں مکمل ازالہ نہیں کر سکتی ہیں۔ ماس کے مطابق جوہری ڈیل سے ایران کی دستبرداری سے تہران حکومت کی مشکلات میں زیادہ شدت پیدا ہو جائے گی۔ جرمن وزیر خارجہ دیگر عالمی طاقتوں کے سفارت کاروں کے ساتھ ایرانی وزیر خارجہ کی ویانا میں ہونے والی میٹنگ میں شریک ہیں۔ انہوں نے ویانا پہنچ کر کہا کہ عالمی طاقتیں امریکی پابندیوں کے بعد ایران میں اپنا کاروبار ختم کرنے والی یورپی کمپنیوں سے پیدا ہونے والے نقصان کا پوری طرح ازالہ کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

جواب چھوڑیں