یونیورسٹیاں مضامین اپنی مادری زبان میں ہی پڑھائیں : نائیڈو

نائب صدر جمہوریہ ہند ایم وینکیانائیڈو نے ملک کی تمام یونیورسٹیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سائنس اور ٹکنالوجی سمیت مختلف مضامین اپنی اپنی اپنی متعلقہ مادری زبانوں میں ہی پڑھائیں۔ نائیڈو آج پڈوچیری میں پڈوچیری یونیورسٹی کے طلبا اور فیکلٹی سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر پڈوچیری کی لفٹننٹ گورنر ڈاکٹر کرن بیدی‘ پڈوچیری کے چیف منسٹر وی نارائن سامی اور دیگر معزز شخصیتیں موجود تھیں۔ نائب صدر جمہوریہ نے تعلیمی اداروں میں پڑھانے کے طور طریقوں میں ازسرنو تبدیلی لانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ طلبا کی ذہانت کو اجاگر کیاجاسکے ۔ انہوں نے یونیورسٹیوں کو اختراع اور تحقیق میں برتری کے عالمی مراکز میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اعلی تعلیمی ادارے کو خود اپنی کارکردگی پر گہری نظر ڈالنی چاہئے اور ان شعبوں کی نشاندہی کرنی چاہئے جنہیں اصلاح کی ضرورت ہے اور جو پوری طرح سے تغیر کے اہل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کو پیداوار کے ساتھ ساتھ اہلیت اور اثر پذیری بڑھانے کی بھی ضرورت ہے اور اپنے عمل کو زیادہ شفاف بنانا چاہئے اور اپنے لوگوں کی ضرورتوں پر توجہ دینا چاہئے ۔نائب صدر جمہوریہ نے 21 ویں صدی کی دنیا میں انسانی وسائل کی شکل میں دستیاب سرمائے کے مضمرات کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ نئی صنعتیں شروع کرنے اور نئے روزگار پیدا کرنے کے سلسلہ میں ان کے لئے کافی مواقع موجود ہیں۔نائب صدر جمہوریہ نے یونیورسٹیوں سے کہا کہ وہ نئے کورسیز تشکیل دینے کے لئے بھاری ذمہ داری لیں اور پڑھانے کے عمل کو بہتر بنائیں تاکہ طلبا کو اس قابل بنایا جاسکے کہ وہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بہت اہم ہے کہ ہمارے اعلی تعلیمی اداروں کے پورٹلز سے پاس ہونے والے طلبا کے پاس روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے ۔ نائیڈو نے کہا کہ تعلیم افراد اور معاشرے کی سماجی ، اقتصادی تبدیلی کا ایک اہم وسیلہ ہے ۔ نائب صدر نے کہا کہ تعلیم انسان کی شخصیت کونکھارتی ہے اور اسے روشن خیال اور بااختیار بنانے میں نمایاں رول ادا کرتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم مسلسل سیکھنے کا ایک عمل ہے ۔ یہ ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ختم نہں ہوجاتی اور تعلیم مضبوط اخلاقی قدروں کو ذہن نشین کراتی ہے اور ایک شخص کی مجموعی ترقی کی راہ ہموار کرتی ہے تعلیم کردار سازی میں اہم رول ادا کرتی ہے اچھے برتائو دینے کے علاوہ صلاحیت سازی میں نمایاں رول ادا کرتی ہے ۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ سیکھنے کے لئے لگن اور مسائل کے حل کے لئے تگ ودو ہر اسکول اور یونیورسٹی نظام کا ایک اٹوٹ حصہ بنانے کی ضرورت ہے ۔

جواب چھوڑیں