امریکی وزیرِ خارجہ کے شمالی کوریائی حکام سے مذاکرات جاری

مائیک پومپیو نے آج ایک محفوظ ٹیلی فون لائن کے ذریعہ صدر ٹرمپ سے بات کی اور انہیں کل ہونے والی ملاقاتوں پر اعتماد میں لیا۔پیانگ یانگ میں موجود امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو مسلسل دوسرے روز بھی شمالی کورین حکام سے مذاکرات میں مصروف ہیں جن کے ایجنڈے میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا خاتمہ سرِ فہرست ہے۔پومپیو کل علی الصباح دو روزہ دورہ پر پیانگ یانگ پہنچے تھے جہاں انہوں نے دن بھر شمالی کوریا کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔امریکی وزیرِ خارجہ نے ہفتے کو شمالی کوریا کی حکمران جماعت کے رہنما اور سابق انٹلی جنس چیف کم یونگ چول سے اپنی طے شدہ ملاقات سے قبل دن کے آغاز پر ایک محفوظ ٹیلی فون لائن کے ذریعے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے بات کی اور انہیں کل ہونے والی ملاقاتوں پر اعتماد میں لیا۔بعد ازاں جب مائیک پومپیو کم یونگ چول سے ملاقات کے لیے پہنچے تو دونوں رہنماوؤں نے صحافیوں کے سامنے گرم جوشی سے مصافحہ کیا۔اس موقع پرکم یونگ چول نے مائیک پومپیو سے سوال کیا کہ کیا رات انہیں اچھی نیند آئی؟ اس پر مائیک پومپیو نے اثبات میں جواب دیا۔مائیک پومپیو کا اس سال شمالی کوریا کا یہ تیسرا دورہ ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع تھا جب انہوں نے پیانگ یانگ میں رات بسر کی۔ اس سے قبل اپنے دونوں دوروں کے دوران وہ شمالی کوریا میں محض چند گھنٹے رکے تھے۔اس موقع پر صحافیوں سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے روشن مستقبل کے خواہاں ہیں۔تاحال یہ واضح نہیں کہ اپنے اس دورے کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔ گزشتہ دونوں دوروں کے دوران انہوں نے کم یونگ ان سے ملاقات کی تھی۔پومپیو 12 جولائی کو سنگاپور میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ہونے والی تاریخی سربراہی ملاقات کے بعد پیانگ یانگ کا دورہ کرنے والے پہلے اعلیٰ امریکی عہدیدار ہیں۔اس سربراہی ملاقات کے دوران امریکہ اور شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے کم جونگ ان کی جانب سے اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے کی یقین دہانی پر عمل درآمد کی نگرانی مائیک پومپیو کو سونپی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوارٹ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی کوششوں کی تصدیق سمیت دیگر “اہم معاملات” طے کرنے کے لیے دونوں ملکوں نے ورکنگ گروپس تشکیل دے دیئے ہیں۔ہفتے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ امریکی وزیرِ خارجہ شمالی کورین حکام کے ساتھ اپنے مذاکرات کے دوران تین اہداف کے حصول پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ان کے بقول ان اہداف میں شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت کا مکمل خاتمہ، سکیورٹی سے متعلق یقین دہانیوں کا حصول اور جنگِ کوریا کے دوران جان سے جانے والے امریکی فوجیوں کی باقیات کی واپسی شامل ہیں۔امریکہ اور شمالی کوریا کے حکام نے جوہری ترک اسلحہ مذاکرات میں تخفیف اسلحہ کی کوششوں کی تحقیقات سمیت تمام اہم پہلوؤں پر کام کرنے کے لئے ورکنگ گروپ کا قیام عمل میں آیا ہے۔امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی شمالی کوریا کے دورے کے دوسرے دن امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔ترجمان ہیڈر نورٹ نے کہا، مسٹر پومپیو نے شمالی کوریا کے حکام کے ساتھ جوہری ترک اسلحہ کے معاملے کے علاوہ 1950 کے کوریا جنگ میں مارے گئے امریکیوں کے باقیات کی وطن واپسی پر بات چیت کی۔شمالی کوریا کے افسر اعلیٰ کم یونگ چول کے ساتھ مذاکرات میں مسٹر پومپیو نے کہا کہ امریکہ کا مقصد شمالی کوریا کو ’مکمل جوہری ترک اسلحہ‘ ہے۔مسٹر چول نے جوہری ترک اسلحہ کے معاملہ پر کچھ نہیں کہا لیکن اتنا ضرور کہا، ” کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں وہ واضح کر دینا چاہتے ہیں‘‘۔

جواب چھوڑیں