تبادلہ خیال کے لئے پارلیمنٹ ہی موزوں فورم:سی پی آئی

 کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) نے ہفتہ کے دن لا کمیشن کے لوک سبھا و ریاستی اسمبلیوں کے بہ یک وقت الیکشن پر مذاکرات کی پہل پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کے لئے واحد فورم پارلیمنٹ ہے۔ لا کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سی پی آئی کے قومی سکریٹری اتل کمار انجان نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا ملک میں بہ یک وقت انتخابات کا خیال دستور کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کے لئے صحیح پلیٹ فارم پارلیمنٹ ہے۔ دستور میں کسی بھی ترمیم پر صرف پارلیمنٹ میں تبادلہ خیال ہونا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لا کمیشن کو وَن نیشن ‘ وَن الیکشن کے تصور کی جانچ کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں انہیں لا کمیشن سے پتہ چلا کہ وزارت ِ قانون نے اس سے کہا ہے کہ وہ اس خیال کی جانچ کرے۔ اتل کمار انجان نے سوال کیا کہ وزارت ِ قانون ‘ لا کمیشن کی مدد کیوں لے رہی ہے۔ اسے پارلیمنٹ یا پارلیمنٹ کی مشاورتی یا قائمہ کمیٹی کے سامنے نکات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا اور اسمبلیوں کے ایک ساتھ الیکشن کے خیال پر پارلیمنٹ میں تبادلہ خیال ہونا چاہئے۔ اس کا فیصلہ بھی وہیں ہو۔ وزارت ِ قانون کو پارلیمانی قوانین میں تبدیلی کے تعلق سے کوئی تجویز پیش کرنے کا حق نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر کسی اتھاریٹی کو دستور کی دوبارہ جانچ کا حق نہیں ہے۔ یہ دستور کے بنیادی تصور کے خلاف ہے ۔لا کمیشن کا 2 روزہ اجلاس نئی دہلی میں منعقد ہورہا ہے ۔ اس میں حصہ لینے والی علاقائی جماعتوں میں سماج وادی پارٹی‘ ترنمول کانگریس‘ بیجو جنتادل‘ ڈی ایم کے‘ اے آئی اے ڈی ایم کے ‘ آر ایل ڈی اور شرومنی اکالی دل شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں